سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 46
سیرت المہدی 46 حصہ اوّل ۱۰ بجے ڈاک آتی تھی تو ڈاک کا مطالعہ فرماتے تھے اور اس سے پہلے بعض اوقات تصنیف کا کام شروع نہیں فرماتے تھے تاکہ ڈاک کی وجہ سے درمیان میں سلسلہ منقطع نہ ہو۔مگر کبھی پہلے بھی شروع کر دیتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود روزانہ اخبار عام لاہور منگواتے اور باقاعدہ پڑھتے تھے۔اس کے علاوہ آخری ایام میں اور کوئی اخبار خود نہیں منگواتے تھے۔ہاں کبھی کوئی بھیج دیتا تھا تو ہ بھی پڑھ لیتے تھے۔57 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ پہلے لنگر کا انتظام ہمارے گھر میں ہوتا تھا اور گھر سے سارا کھانا پک کر جاتا تھا مگر جب آخری سالوں میں زیادہ کام ہو گیا تو میں نے کہہ کر باہر انتظام کروا دیا۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ کیا حضرت صاحب کسی مہمان کے لئے خاص کھانا پکانے کیلئے بھی فرماتے تھے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا ہاں بعض اوقات فرماتے تھے کہ فلاں مہمان آئے ہیں ان کے لئے یہ کھانا تیار کر دو۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ شروع میں سب لوگ لنگر سے ہی کھانا کھاتے تھے خواہ مہمان ہوں یا یہاں مقیم ہو چکے ہوں۔مقیم لوگ بعض اوقات اپنے پسند کی کوئی خاص چیز اپنے گھروں میں بھی پکا لیتے تھے مگر حضرت صاحب کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ اگر ہو سکے تو ایسی چیزیں بھی ان کے لئے آپ ہی کی طرف سے تیار ہو کر جاویں اور آپ کی خواہش رہتی تھی کہ جو شخص جس قسم کے کھانے کا عادی ہو اس کو اس قسم کا کھانا دیا جا سکے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی زندگی میں لنگر کا انتظام خود آپ کے ہاتھ میں رہتا تھا مگر آپ کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول نے یہ انتظام صدر انجمن احمد یہ قادیان کے سپر دفرما دیا۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں بعض لوگ حضرت صاحب سے کہا کرتے تھے کہ حضور کو انتظام کی وجہ سے بہت تکلیف ہوتی ہے اور حضور کا حرج بھی بہت ہوتا ہے اپنے خدام کے سپرد فرما دیں مگر آپ نے نہیں مانا کیونکہ آپ کو یہ اندیشہ رہتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے پاس انتظام جانے سے کسی مہمان کو تکلیف ہو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ کوشش ان لوگوں کی طرف سے تھی جو آپ کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے ایسا نہیں کہتے تھے بلکہ ان کی نیتوں میں فساد تھا اور جو منافقین مدینہ کی طرح آپ پر اخراجات لنگر خانہ کے متعلق شبہ کرتے تھے_ قال الله تعالى ” و منهم من يلمزک