سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 485 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 485

سیرت المہدی 485 حصہ دوم چھوڑ دیں تا کہ ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق اس سے فائدہ اٹھا سکے اور علمی تحقیق کا دروازہ بند نہ ہونے پائے۔اور اگر ہم اس روایت کو اپنے خیال اور اپنی در ائت کے مخالف ہونے کی وجہ سے ترک کر دینگے تو ہمارا یہ فعل کبھی بھی دیانتداری پر بنی نہیں سمجھا جاسکتا۔پھر مجھے یہ بھی تعجب ہے کہ ڈاکٹر صاحب ایک طرف تو مجھ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ میری کتاب صرف ”محمودی‘ خیال کے لوگوں کے مطلب کی ہے اور لاہوری محققین کے مطالعہ کے قابل نہیں اور دوسری طرف یہ اعتراض ہے کہ کتاب درایت کے پہلو سے خالی ہے۔حالانکہ ڈاکٹر صاحب کو اپنے اصول کے مطابق میرے خلاف اس اعتراض کا حق نہیں تھا۔کیونکہ اگر میں نے بفرض محال صرف ان روایات کو لیا ہے جو ہمارے عقیدہ کی مؤید ہیں۔تو میں نے کوئی برا کام نہیں بلکہ بقول ڈاکٹر صاحب عین اصول درایت کے مطابق کیا ہے۔کیونکہ جو باتیں میرے نزدیک حضرت کے طریق عمل اور تحریروں کے خلاف تھیں۔ان کو میں نے رد کر دیا ہے۔اور صرف انہیں کو لیا ہے جو میرے خیال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق عمل اور آپ کی تحریرات کے مطابق تھیں اور یہ ہو بھی کیسے سکتا تھا کہ میں ان کے خلاف کسی روایت کو قبول کروں۔کیونکہ ڈاکٹر صاحب کے اپنے الفاظ ہیں۔صریح حضرت مسیح موعود کی تحریروں اور طرز عمل کے خلاف اگر ایک روایت ہو تو حضرت مسیح موعود کو راست باز ماننے والا تو قطعا اسکو قبول نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔ہم راوی پر حرف آنے کو قبول کر سکتے ہیں مگر مسیح موعود پر حرف آنے کو ہمارا ایمان ، ہماری ضمیر، ہمارا مشاہدہ۔ہمارا تجربہ قطعاً قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔“ پس اس اصول کے ماتحت اگر میں نے ان روایتوں کو جو میرے نزدیک حضرت کی تحریرات اور طرز عمل کے صریح خلاف تھیں۔رڈ کر دیا اور درج نہیں کیا۔اور اس طرح میری کتاب ”محمودی عقائد کی کتاب بن گئی تو میں نے کچھ برا نہ کیا۔بلکہ بڑا ثواب کمایا اور ڈاکٹر صاحب کے عین دلی منشاء کو پورا کرنے کا موجب بنا اور ایسی حالت میں میرا یہ فعل قابل شکر یہ سمجھا جانا چاہیے۔نہ کہ قابل ملامت اور اگر ڈاکٹر