سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 484
سیرت المہدی 484 حصہ دوم ہے البتہ بعد کے مؤرخین میں سے بعض نے درایت پر زور دیا ہے لیکن انہوں نے بھی اصل بنیا دروایت پر ہی رکھی ہے۔اور درایت کو ایک حد مناسب تک پر کھنے اور جانچ پڑتال کرنے کا آلہ قرار دیا ہے اور یہی سلامت روی کی راہ ہے۔واقعی اگر ایک بات کسی ایسے آدمی کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے جو صادق القول ہے اور جس کے حافظہ میں بھی کوئی نقص نہیں اور جو فہم و فراست میں بھی اچھا ہے۔اور روایت کے دوسرے پہلوؤں کے لحاظ سے بھی وہ قابل اعتراض نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کی روایت کو صرف اس بنا پر رڈ کر دیں کہ وہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔یا یہ کہ ہمارے خیال میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق عمل یا تحریروں کے مخالف ہے۔کیونکہ اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم واقعات کو اپنے محدود استدلال بلکہ بعض حالتوں میں خود غرضانہ استدلال کے ماتحت لانا چاہتے ہیں۔خوب سوچ لو کہ جو بات عملاً وقوع میں آگئی ہے یعنی اصول روایت کی رو سے اس کے متعلق یہ قطعی طور پر ثابت ہے کہ وہ واقع ہو چکی تو پھر خواہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے یا ہمارے کسی استدلال کے موافق ہو یا مخالف ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے قبول کریں۔سوائے اسکے کہ وہ کسی ایسی نص صریح کے مخالف ہو۔جس کے مفہوم کے متعلق اُمت میں اجماع ہو چکا ہو۔مثلاً یہ بات کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ہر احمدی کہلانے والے کے نزدیک مسلم ہے اور کوئی احمدی خواہ وہ کسی جماعت یا گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔اس کا منکر نہیں۔پس ایسی صورت میں اگر کوئی ایسی روایت ہم تک پہنچے جس میں یہ مذکور ہو کہ آپ نے کبھی بھی مسیح موعود ہونے کا دعوی نہیں کیا تو خواہ بظاہر وہ روایت میں مضبوط ہی نظر آئے۔ہم اسے قبول نہیں کریں گے اور یہ سمجھ لیں گے کہ راوی کو (اگر وہ سچا بھی ہے ) کوئی ایسی غلطی لگ گئی ہے جس کا پتہ لگانا ہمارے لئے مشکل ہے کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود کی صریح تحریرات ( یعنی ایسی تحریرات جن کے مفہوم کے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے ) کے مخالف ہے لیکن اگر کوئی روایت ہمیں مسئلہ نبوت یا کفر و اسلام یا خلافت یا جنازہ غیر احمدیان وغیرہ کے متعلق ملے اور وہ اصول روایت کے لحاظ سے قابل اعتراض نہ ہو تو خواہ وہ ہمارے عقیدہ کے کیسی ہی مخالف ہو۔ہمارا فرض ہے کہ اسے دیانتداری کے ساتھ درج کر دیں۔اور اس سے استدلال واستنباط کرنے کے سوال کو ناظرین پر