سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 486 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 486

سیرت المہدی 486 حصہ دوم صاحب کا یہ منشاء ہے کہ روایت کے اصول کی رو سے تو میں اپنے فہم کے مطابق پڑتال کیا کروں مگر درایت کے مطابق پر کھنے کے لئے ڈاکٹر صاحب اور ان کے ہم مشربوں کی فہم وفراست کی عینک لگا کر روایات کا امتحان کیا کروں۔تو گو ایسا ممکن ہو۔لیکن ڈر صرف یہ ہے کہ کیا اس طرح میری کتاب ”پیغامی عقائد کی کتاب تو نہ بن جائے گی۔اور کیا ڈاکٹر صاحب کی اس ساری تجویز کا یہی مطلب تو نہیں کہ محنت تو کروں میں اور کتاب ان کے مطلب کی تیار ہو جائے۔مکرم ڈاکٹر صاحب ! افسوس! آپ نے اعتراض کرنے میں انصاف سے کام نہیں لیا بلکہ یہ بھی نہیں سوچا کہ آپ کے بعض اعتراضات ایک دوسرے کے مخالف پڑے ہوئے ہیں۔ایک طرف تو آپ یہ فرماتے ہیں کہ میری کتاب "محمودی عقائد کی کتاب ہے اور دوسری طرف میرے خلاف یہ ناراضگی ہے کہ میں نے درایت سے کام نہیں لیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق عمل اور تحریرات کے خلاف روایتیں درج کر دی ہیں۔اب آپ خود فرمائیں کہ اس حالت میں میں کروں تو کیا کروں؟ اپنی درایت سے کام لوں تو میری کتاب محمودی عقائد کی کتاب بنتی ہے اور اگر درایت سے کام نہ لوں تو یہ الزام آتا ہے کہ درایت کا پہلو کمزور ہے۔ایسی حالت میں میرے لئے آپ کے خوش کرنے کا سوائے اس کے اور کونسا رستہ کھلا ہے کہ میں درایت سے کام تو لوں۔مگر اپنی درایت سے نہیں بلکہ آپ کی درایت سے اور ہر بات جو آپ کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق عمل اور تحریرات کے خلاف ہو۔اسے رڈ کرتا جاؤں جس کا نتیجہ یہ ہو کہ جب کتاب شائع ہو تو آپ خوش ہو جائیں کہ اب یہ کتاب روایت و درایت ہر دو پہلو سے اچھی ہے۔کیونکہ اس میں کوئی بات لا ہوری احباب کے عقائد کے خلاف نہیں۔اگر جرح و تعدیل کا یہی طریق ہے تو خدا ہی حافظ ہے۔یہ سب کچھ میں نے ڈاکٹر صاحب کے اصول کو مد نظر رکھ کر عرض کیا ہے ورنہ حق یہ ہے کہ میں نے جہاں تک میری طاقت ہے روایت و درایت دونوں پہلوؤں کو دیانت داری کے ساتھ علی قدر مراتب ملحوظ رکھا ہے اور یہ نہیں دیکھا کہ چونکہ فلاں بات ہمارے عقیدہ کے مطابق ہے اس لئے اسے ضرور لے لیا جائے یا چونکہ فلاں بات لاہوری احباب کے عقیدہ کے مطابق ہے۔اس لئے اسے ضرور چھوڑ دیا جائے۔بلکہ جو