سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 479 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 479

سیرت المہدی 479 حصہ دوم ذاتی اغراض کے ماتحت صداقت کی پرواہ نہیں کرتا۔اور جو اپنے کسی مطلب کو حاصل کرنے کے لئے خدائے ذوالجلال کے ایک مقرب و ذیشان فرستادہ کو اعتراض کا نشانہ بناتا ہے۔اور اگر یہ درست نہیں اور میرا خدا شاہد ہے کہ یہ درست نہیں۔تو ڈاکٹر صاحب خدا سے ڈریں اور دوسرے کے دل کی نیت پر اس دلیری کے ساتھ حملہ کر دینے کو کوئی معمولی بات نہ جائیں۔یہ درست ہے کہ ان کے اس قسم کے حملوں کے جواب کی طاقت مجھ میں نہیں ہے لیکن خدا کو ہر طاقت حاصل ہے اور مظلوم کی امداد کرنا اس کی سنت میں داخل ہے۔مگر میں اب بھی ڈاکٹر صاحب کے لئے خدا سے دعا ہی کرتا ہوں۔کہ وہ ان کی آنکھیں کھولے اور حق وصداقت کے رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ان کی غلطیاں ان کو معاف ہوں اور میری لغزشیں مجھے معاف۔یہ نیت کا معاملہ ہے میں حیران ہوں کہ کیا کہوں اور کیا نہ کہوں۔ہاں اس وقت ایک حدیث مجھے یاد آ گئی ہے۔وہ عرض کرتا ہوں۔ایک جنگ میں اسامہ بن زید اور ایک کافر کا سامنا ہوا۔کافراچھا شمشیر زن تھا خوب لڑتا رہا لیکن آخر اسامہ کو بھی ایک موقعہ خدا نے عطا فرمایا اور انہوں نے تلوار تول کر کافر پر حملہ کیا کافر نے اپنے آپ کو خطرے میں پا کر جھٹ سامنے سے یہ کہہ دیا کہ مسلمان ہوتا ہوں مگر اسامہ نے پرواہ نہ کی اور اسے تلوار کے گھاٹ اُتار دیا۔بعد میں کسی نے اس واقعہ کی خبر آنحضرت ﷺ کو کر دی۔آپ حضرت اسامه پرسخت ناراض ہوئے اور غصہ سے آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا آپ نے فرمایا اے اسامہ! کیا تم نے اسے اس کے اظہار اسلام کے بعد مار دیا؟ اور آپ نے تین مرتبہ یہی الفاظ دہرائے۔اسامہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ شخص دکھاوے کے طور پر ایسا کہتا تھا تا کہ بچ جاوے۔آپ نے جوش سے فرمایا أَفَلا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا امْ لَا یعنی تو نے پھر اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا۔کہ وہ ٹھیک کہتا تھا کہ نہیں۔اسامہ کہتے ہیں آنحضرت ﷺ نے یہ الفاظ ایسی ناراضگی میں فرمائے کہ تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنُ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَالِكَ الْيَوْمِ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش ! میں اس سے قبل مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا اور صرف آج اسلام قبول کرتا۔تا کہ آنحضرت ﷺ کی یہ ناراضگی میرے حصہ میں نہ آتی۔میں بھی جو رسول پاک کی خاک پا ہونا اپنے لئے سب فخروں سے بڑھ کر فخر سمجھتا ہوں۔آپکی اتباع میں ڈاکٹر