سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 480
سیرت المہدی 480 حصہ دوم صاحب سے یہی عرض کرتا ہوں کہ میرے خلاف یہ خطرناک الزام لگانے سے قبل آپ نے میرا دل تو چیر کر دیکھ لیا ہوتا کہ اس کے اندر کیا ہے۔بس اس سے زیادہ کیا جواب دوں۔ڈاکٹر صاحب کوئی مثال پیش فرماتے تو اس کے متعلق کچھ عرض کرتا۔لیکن جو بات بغیر مثال دینے کے یونہی کہہ دی گئی ہو اس کا کیا جواب دیا جائے؟ میرا خدا گواہ ہے کہ میں نے سیرۃ المہدی کی کوئی روایت کسی ذاتی غرض کے ماتحت نہیں لکھی اور نہ کوئی روایت اس نیت سے تلاش کر کے درج کی ہے کہ اس سے غیر مبایعین پر زد پڑے بلکہ جو کچھ بھی مجھے تک پہنچا ہےاسے بعد مناسب تحقیق کے درج کر دیا ہے۔وَلَعَنَتُ اللَّهِ عَلَى مَنْ كَذَبَ بایں ہمہ اگر میری یہ کتاب ڈاکٹر صاحب اور ان کے ہم رتبہ متفقین کے اوقات گرامی کے شایان شان نہیں تو مجھے اس کا افسوس ہے۔ساتواں اور آخری اصولی اعتراض جو ڈاکٹر صاحب نے بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ سیرۃ المہدی کی بہت سی روایات درایت کے اصول کے لحاظ سے غلط ثابت ہوتی ہیں۔اور جو بات دراینا غلط ہو وہ خود روایت کی رُو سے کیسی ہی مضبوط نظر آئے اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا مثلاً ڈاکٹر صاحب کا بیان ہے کہ سیرۃ المہدی میں بعض ایسی روایتیں آگئی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی تحریرات کے صریح خلاف ہیں بلکہ بعض حالتوں میں آپکے مزیل شان بھی ہیں اور ایسی حالت میں کوئی شخص جو آپ کو راست بازیقین کرتا ہوان روایات کو قبول نہیں کر سکتا۔راوی کے بیان کو غلط قرار دیا جا سکتا ہے مگر حضرت مسیح موعود پر حرف آنے کو ہمارا ایمان ، ہمارا مشاہدہ، ہمارا ضمیر قطعاً قبول نہیں کر سکتا۔خلاصہ کلام یہ کہ ایسی روایتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق عمل اور آپ کی تحریرات کے صریح خلاف ہوں قابل قبول نہیں ہیں۔مگر سیرۃ المہدی میں اس قسم کی روایات کی بھی کوئی کمی نہیں وغیرہ وغیرہ۔اس اعتراض کے جواب میں میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں اصولاً اس بات سے متفق ہوں کہ جوروایات واقعی اور حقیقتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق عمل اور آپ کی تعلیم اور آپ کی تحریرات کے خلاف ہیں وہ کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہوسکتیں اور ان کے متعلق بہر حال یہ قرار دینا ہو گا کہ اگر