سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 478 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 478

سیرت المہدی 478 حصہ دوم اور سوائے خدا کی خاص نصرت و فضل کے اس کام کو بخیر و خوبی سرانجام دینا ایک نہایت مشکل امر ہے اور خواہ مجھے کمزور کہا جائے یا میرا نام وہم پرست رکھا جائے حقیقت یہ ہے کہ میں ہر قدم پر لغزش سے ڈرتا رہا ہوں اور اسی خیال کے ماتحت میں نے ہر روایت کو دعا کے بعد خدا کے نام سے شروع کیا ہے۔یہ اگر ایک بچوں کا کھیل ہے تو بخدا مجھے یہ کھیل ہزار ہاسنجید گیوں سے بڑھ کر پسند ہے۔اور جناب ڈاکٹر صاحب موصوف سے میری یہ بصد منت درخواست ہے کہ میرے اس کھیل میں روڑا نہ اٹکا ئیں۔مگر خدا جانتا ہے کہ یہ کوئی کھیل نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت کا اظہار ہے اور اگر میں نے تصنع کے طور پر لوگوں کے دکھانے کے لئے یہ کام کیا ہے تو مجھ سے بڑھ کر شقی کون ہو سکتا ہے کہ خدائے قدوس کے نام کے ساتھ کھیل کرتا ہوں اس صورت میں وہ مجھ سے خود سمجھے گا۔اور اگر یہ کھیل نہیں اور خدا گواہ ہے کہ یہ کھیل نہیں تو ڈاکٹر صاحب بھی اس دلیری کے ساتھ اعتراض کی طرف قدم اُٹھاتے ہوئے خدا سے ڈریں۔بس اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہوں گا۔چھٹا اصولی اعتراض جو ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے مضمون کے شروع میں سیرۃ المہدی پر کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ:۔در اصل یہ کتاب صرف محمودی صاحبان کے پڑھنے کے لئے بنائی گئی ہے۔یعنی صرف خوش عقیدہ لوگ پڑھیں۔جن کی آنکھوں پر خوش عقیدگی کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔نہ غیروں کے پڑھنے کے لائق ہے نہ لا ہوری احمدیوں کے، نہ کسی محقق کے۔بعض روایتوں میں حضرت مسیح موعود پر صاف زد پڑتی ہے۔مگر چونکہ ان سے لاہوری احمدیوں پر بھی زد پڑنے میں مدد ملتی ہے اس لئے بڑے اہتمام سے ایسی لغو سے لغو روا میتیں مضبوط کر کے دل میں نہایت خوش ہوتے معلوم ہوتے ہیں۔الخ۔اس اعتراض کے لب ولہجہ کے معاملہ کو والہ بخدا کرتے ہوئے اس کے جواب میں صرف یہ عرض کرنا ہے۔کہ اگر یہ اعتراض واقعی درست ہو تو میری کتاب صرف اس قابل ہے کہ اسے آگ کے حوالہ کر دیا جائے۔اور اس کا مصنف اس بڑی سے بڑی سزا کا حق دار ہے جو ایک ایسے شخص کو دی جاسکتی ہے جو اپنی