سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 457 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 457

سیرت المہدی 457 حصہ دوم اللہ علیہ وسلم کے ساتھ براہ راست بلا واسطہ کوئی تعلق نہیں ہے لیکن چونکہ بالواسطہ طور پر وہ آپ کے حالات زندگی پر اور آپ کی سیرت و سوانح پر اثر ڈالتی ہیں۔اس لئے قابل مصنف نے انہیں درج کر دیا ہے۔بعض جگہ صحابہ کے حالات میں ایسی ایسی باتیں درج ہیں جن کا آنحضرت ﷺ کی سیرت سے بظاہر کوئی بھی تعلق نہیں اور ایک عامی آدمی حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ نہ معلوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں یہ روایات کیوں درج کی گئی ہیں۔لیکن اہل نظر و فکر ان سے بھی آپ کی سیرت و سوانح کے متعلق نہایت لطیف استدلالات کرتے ہیں۔مثلاً صحابہ کے حالات ہمیں اس بات کے متعلق رائے قائم کرنے میں بہت مدد دیتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی صحبت اور آپ کی تعلیم وتربیت نے آپ کے متبعین کی زندگیوں پر کیا اثر پیدا کیا۔یعنی ان کو آپ نے کس حالت میں پایا۔اور کس حالت میں چھوڑا۔اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے کوئی عقل مند انسان آپ کی سیرۃ وسوانح کے لحاظ سے لاتعلق نہیں کہہ سکتا۔اسی طرح مثلاً آپ کی سیرۃ کی کتب میں آپ کے آباء واجداد کے حالات اور آپ کی بعثت کے وقت آپ کے ملک وقوم کی حالت کا مفصل بیان درج ہوتا ہے جو بادی النظر میں ایک بلاتعلق بات سمجھی جاسکتی ہے۔لیکن درحقیقت آپ کی سیرۃ وسوانح کو پوری طرح سمجھنے کیلئے ان باتوں کا علم نہایت ضروری ہے۔الغرض سیرۃ کا مفہوم ایسا وسیع ہے کہ اس میں ایک حد مناسب تک ہر وہ بات درج کی جاسکتی ہے جو اس شخص کے ساتھ کوئی نہ کوئی تعلق رکھتی ہو جس کی سیرۃ لکھی جارہی ہے بعض اوقات کسی شخص کی سیرت لکھتے ہوئے اس کے معروف اقوال اور ریروں کے خلاصے درج کئے جاتے ہیں جن کو ایک جلد باز انسان سیرۃ کے لحاظ سے زائد ولا تعلق باتیں سمجھ سکتا ہے۔حالانکہ کسی شخص کے اقوال وغیرہ کا علم اس کی سیرۃ کے متعلق کامل بصیرت حاصل کرنے کیلئے ضروری ہوتا ہے۔پھر بعض وہ علمی نکتے اور نئی علمی تحقیقا تیں اور اصولی صداقتیں جو ایک شخص کے قلم یا منہ سے نکلی ہوں وہ بھی اس کی سیرۃ میں بیان کی جاتی ہیں تا کہ یہ اندازہ ہو سکے کہ وہ کس دل و دماغ کا انسان ہے۔اور اسکی وجہ سے دنیا کے علوم میں کیا اضافہ ہوا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے سیرۃ کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کھائی ہے اور اس کو اسکے تنگ اور تقریر