سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 458
سیرت المہدی 458 حصہ دوم محدود دائرہ میں لے کر اعتراض کی طرف قدم بڑھا دیا ہے۔ورنہ اگر وہ ٹھنڈے دل سے سوچتے اور سیرۃ کے اس مفہوم پر غور کرتے جو اہل سیر کے نزدیک رائج و متعارف ہے تو ان کو یہ غلطی نلگتی۔اور اسی وسیع مفہوم کو مدنظر رکھ کر میں نے سیرۃ المہدی میں ہر قسم کی روایات درج کر دی ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک صاحب بصیرت شخص ان میں سے کسی روایت کو زائد اور بے فائدہ قرار نہیں دے سکتا۔میں نے اس خیال سے بھی اپنے انتخاب میں وسعت سے کام لیا ہے کہ ممکن ہے اس وقت ہمیں ایک بات لاتعلق نظر آوے لیکن بعد میں آنے والے لوگ اپنے زمانہ کے حالات کے ماتحت اس بات سے حضرت مسیح موعود کی سیرۃ وسوانح کے متعلق مفید استدلالات کر سکیں۔جیسا کہ مثلاً ابتدائی اسلامی مورخین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہر قسم کی روایات جمع کر دیں۔اور گو اس وقت ان میں سے بہت سی روایتوں سے ان متقدمین نے کوئی استدلال نہیں کیا۔لیکن اب بعد میں آنے والوں نے اپنے زمانہ کے حالات وضروریات کے ماتحت ان روایات سے بہت علمی فائدہ اُٹھایا ہے۔اور مخالفین کے بہت سے اعتراضات کا جواب دینے کیلئے ان سے مدد حاصل کی ہے۔اگر وہ لوگ ان روایات کو اپنے حالات کے ما تحت لاتعلق سمجھ کر چھوڑ دیتے تو ایک بڑا مفید خزانہ اسلام کا ضائع ہو جاتا۔پس ہمیں بھی بعد میں آنے والوں کا خیال رکھ کر روایات کے درج کرنے میں فراخ دلی سے کام لینا چاہیے اور حتی الوسع کسی روایت کو محض لاتعلق سمجھے جانے کی بنا پر رد نہیں کر دینا چاہیے۔ہاں بے شک یہ احتیاط ضروری ہے کہ کمزور اور غلط روایات درج نہ ہوں۔مگر جو روایت اصول روایت و درایت کی رو سے صحیح قرار پائے۔اور وہ ہو بھی حضرت مسیح موعود کے متعلق تو خواہ وہ آپ کی سیرۃ کے لحاظ سے بظاہر لاتعلق یا غیر ضروری ہی نظر آوے اسے ضرور درج کر دینا چاہیے۔بہر حال میں نے روایات کے انتخاب میں وسعت سے کام لیا ہے کیونکہ میرے نزدیک سیرۃ کا میدان ایسا وسیع ہے کہ بہت ہی کم ایسی روایات ہو سکتی ہیں جو من کل الوجوہ غیر متعلق قرار دی جاسکیں۔اس جگہ تفصیلات کی بحث نہیں کیونکہ ڈاکٹر صاحب نے صرف اصولی اعتراض اٹھایا ہے اور مثالیں نہیں