سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 456
سیرت المہدی 456 حصہ دوم گی جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کسی نہ کسی قسم کا تعلق ہے۔چنانچہ کتاب کے شروع میں میری طرف سے یہ الفاظ درج ہیں ” میرا ارادہ ہے۔واللہ الموفق، کہ جمع کر دوں اس کتاب میں تمام وہ ضروری باتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے متعلق تحریر فرمائی ہیں اور جو دوسرے لوگوں نے لکھی ہیں۔نیز جمع کروں تمام وہ زبانی روایات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مجھے پہنچی ہیں یا جو آئندہ پہنچیں۔اور نیز وہ باتیں جو میرا ذاتی علم اور مشاہدہ ہیں، میں امید کرتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب اس بات کو تسلیم کریں گے کہ ان الفاظ کے ماتحت مجھے اپنے دائرہ عمل میں ایک حد تک وسعت حاصل ہے۔اور دراصل منشاء بھی میرا یہی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق جو بھی قابل ذکر بات مجھے پہنچے میں اسے درج کر دوں تا کہ لوگوں کے استمتاع کا دائرہ وسیع ہو جاوے۔اور کوئی بات بھی جو آپ کے متعلق قابل بیان ہو ذکر سے نہ رہ جائے کیونکہ اگر اسوقت کوئی بات ضبط تحریر میں آنے سے رہ گئی تو بعد میں وہ ہمارے ہاتھ نہیں آئے گی۔اور نہ بعد میں ہمارے پاس اسکی تحقیق اور جانچ پڑتال کا کوئی پختہ ذریعہ ہوگا۔مگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے ان الفاظ کو جو میں نے اسی غرض کو مد نظر رکھ کر لکھے تھے بالکل نظر انداز کر کے خواہ نخواہ اعتراضات کی تعداد بڑھانے کیلئے میرے خلاف ایک الزام دھر دیا ہے۔چوتھا اور حقیقی جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے لفظ سیرۃ کے مفہوم پر غور نہیں کیا اور اسکے مفہوم کو ایک بہت ہی محدود دائرہ میں مقید سمجھ کر مجھے اپنے اعتراض کا نشانہ بنالیا ہے۔اگر ڈاکٹر صاحب سیرۃ کی مختلف کتب کا مطالعہ فرما دیں۔خصوصاً جو کتب متقدمین نے سیرۃ میں لکھی ہیں۔انہیں دیکھیں تو ڈاکٹر صاحب کو معلوم ہو جائے گا کہ سیرۃ کا لفظ نہایت وسیع معنوں میں لیا جاتا ہے۔دراصل سیرۃ کی کتب میں تمام وہ روایات درج کر دی جاتی ہیں جو کسی نہ کسی طرح اس شخص سے تعلق رکھتی ہوں۔جس کی سیرت لکھنی مقصود ہوتی ہے۔مثلاً سیرۃ ابن ہشام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں ایک نہایت ہی مشہور اور متداول کتاب ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے اس کا ضرور مطالعہ کیا ہوگا۔لیکن اسے کھول کر اول سے آخر تک پڑھ جاویں۔اس میں سینکڑوں ایسی باتیں درج ملیں گی جن کا آنحضرت صلی