سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 455 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 455

سیرت المہدی 455 حصہ دوم دوسرا جواب اس اعتراض کا میں یہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر بالفرض سیرۃ المہدی میں بعض ایسی روایات آگئی ہیں جن کا واقعی سیرت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر بھی کتاب کا نام سیرۃ رکھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ڈاکٹر صاحب کم از کم اس بات کو ضرور تسلیم کریں گے کہ سیرۃ المہدی میں زیادہ تر روایات وہی ہیں جن کا سیرت کے ساتھ تعلق ہے۔پس اگر ان کثیر التعدادروایات کی بنا پر کتاب کا نام سیرۃ رکھ دیا جاوے تو قابل اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔اور کم از کم یہ کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جسے ڈاکٹر صاحب جائے اعتراض گردان کر اسے اپنی تنقید میں جگہ دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجود باجود ہر مخلص احمدی کیلئے ایسا ہے کہ خواہ نخواہ طبیعت میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ آپ کے متعلق جو کچھ بھی ہمارے علم میں آجاوے وہی کم ہے اور جذبہ محبت کسی بات کو بھی جو آپ کے ساتھ تعلق رکھتی ہو۔لاتعلق کہہ کر نظر انداز نہیں کرنے دیتا۔پس اگر میرا شوق مجھے کہیں کہیں لاتعلق باتوں میں لے گیا ہے تو اس خیال سے کہ یہ باتیں بہر حال ہیں تو ہمارے آقا ہماری جان کی راحت اور ہماری آنکھوں کے سرور حضرت مسیح موعود ہی کے متعلق۔میرا یہ علمی جرم اہل ذوق اور اہل اخلاص کے نزدیک قابل معافی ہونا چاہیے۔مگر ڈاکٹر صاحب ! اگر آپ محبت کے میدان میں بھی خشک فلسفہ اور تدوین علم کی باریکیوں کو راہ دینا چاہتے ہیں تو آپ کو اختیار ہے۔مگر تاریخ عالم اور صحیفہ فطرت کے مطالعہ سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ جذبہ محبت ایک حد تک ان سخت قیود سے آزاد سمجھا جانا چاہیے۔آپ اشعار کا شوق رکھتے ہیں۔یہ شعر تو آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ے خلق میگوید که خسر و بت پرستی میکند آرے آرے میکنم با خلق و عالم کار نیست بس یہی میرا جواب ہے۔حضرت مسیح موعود بھی فرماتے ہیں۔تانه دیوانه شدم ہوش نیا مد بسرم اے جنوں گرد تو گردم که چه احساں کر دی پس جوش محبت میں ہمارا تھوڑ اسا دیوانہ پن کسی احمدی کہلانے والے پر گراں نہیں گذرنا چاہیے۔تیسرا جواب اس اعتراض کا میری طرف سے یہ ہے کہ میں نے خود اس کتاب کے آغاز میں اپنی اس کتاب کی غرض وغایت لکھتے ہوئے یہ لکھ دیا تھا کہ اس مجموعہ میں ہر ایک قسم کی وہ روایت درج کی جاوے