سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 454
رت المهدی 454 حصہ دوم نہیں لیکن جس وقت استنباط و استدلال کا وقت آئے گا (خواہ میرے لئے یا کسی اور کیلئے ) اس وقت غالبا وہ اپنی ضرورت خود منوا لیں گی۔میرے ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ میں نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس کتاب میں بعض ایسی روایتیں درج ہیں جن کا بادی النظر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت سے تعلق نہیں ہے لیکن استدلال و استنباط کے وقت ان کا تعلق ظاہر کیا جاسکتا ہے۔پس میری طرف سے اس خیال کے ظاہر ہو جانے کے باوجود ڈاکٹر صاحب کا اس اعتراض کو پیش کرنا سوائے اس کے اور کیا معنے رکھتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو صرف بہت سے اعتراض جمع کر دینے کا شوق ہے۔میں جب خود مانتا ہوں کہ سیرۃ المہدی میں بعض بظاہر لاتعلق روایات درج ہیں۔اور اپنی طرف سے اس خیال کو ضبط تحریر میں بھی لے آیا ہوں۔تو پھر اس کو ایک نیا اعتراض بنا کر اپنی طرف سے پیش کرنا انصاف سے بعید ہے۔اور پھر زیادہ قابل افسوس بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے ان الفاظ کا اپنے ریویو میں ذکر تک نہیں کیا۔ورنہ انصاف کا یہ تقاضا تھا کہ جب انہوں نے یہ اعتراض کیا تھا تو ساتھ ہی میرے وہ الفاظ بھی درج کر دیتے جن میں میں نے خود اس اعتراض کو پیدا کر کے اس کا اجمالی جواب دیا ہے۔اور پھر جو کچھ جی میں آتا فرماتے۔مگر ڈاکٹر صاحب نے میرے الفاظ کا ذکر تک نہیں کیا۔اور صرف اپنی طرف سے یہ اعتراض پیش کر دیا ہے تا کہ یہ ظاہر ہو کہ یہ تنقید صرف ان کی حدت نظر اور دماغ سوزی کا نتیجہ ہے۔اور اعتراضات کے نمبر کا اضافہ مزید برآں رہے۔افسوس! اور پھر یہ شرافت سے بھی بعید ہے کہ جب میں نے یہ صاف لکھ دیا تھا کہ استدلال واستنباط کے وقت ان روایات کا تعلق ظاہر کیا جائے گا۔تو ایسی جلد بازی سے کام لے کر شور پیدا کر دیا جاوے۔اگر بہت ہی بے صبری تھی تو حق یہ تھا کہ پہلے مجھے تحریر فرماتے کہ تمہاری فلاں فلاں روایت سیرۃ سے بالکل بے تعلق ہے اور کسی طرح بھی اس سے حضرت مسیح موعود کی سیرۃ پر روشنی نہیں پڑتی۔اور پھر اگر میں کوئی تعلق ظاہر نہ کر سکتا تو بے شک میرے خلاف یہ فتویٰ شائع فرما دیتے کہ اس کی کتاب سیرة کہلانے کی حقدار نہیں کیونکہ اس میں ایسی روایات آگئی ہیں جن کا کسی صورت میں بھی سیرت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔