سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 453 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 453

سیرت المہدی 453 حصہ دوم تک پڑھ جاؤ۔سوائے عیب گیری اور نقائص اور عیوب ظاہر کرنے کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔گویا یہ نظر“ عدل وانصاف کی نظر نہیں ہے۔جسے حسن و قبح سب کچھ نظر آنا چاہیے۔بلکہ عداوت اور دشمنی کی نظر ہے۔جو سوائے عیب اور نقص کے اور کچھ نہیں دیکھ سکتی۔مکرم ڈاکٹر صاحب ! کچھ وسعت حوصلہ پیدا کیجئے اور اپنے دل و دماغ کو اس بات کا عادی بنائیے کہ وہ اس شخص کے محاسن کا بھی اعتراف کر سکیں۔جسے آپ اپنا دشمن تصورفرماتے ہوں۔میں نے یہ الفاظ نیک نیتی سے عرض کئے ہیں اور خدا شاہد ہے کہ میں تو آپ کا دشمن بھی نہیں ہوں۔گو آپ کے بعض معتقدات سے مجھے شدید اختلاف ہے۔اس کے بعد میں اصل مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے مضمون کے شروع میں چند اصولی باتیں لکھی ہیں جو ان کی اس رائے کا خلاصہ ہیں۔جو انہوں نے بحیثیت مجموعی سیرۃ المہدی حصہ اول کے متعلق قائم کی ہے سب سے پہلی بات جو ڈاکٹر صاحب نے بیان کی ہے۔وہ یہ ہے کہ کتاب کا نام سیرۃ المہدی رکھنا غلطی ہے کیونکہ وہ سیرۃ المہدی کہلانے کی حقدار ہی نہیں۔زیادہ تر یہ ایک مجموعہ روایات ہے جن میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسی روایات کی بھی کمی نہیں جن کا سیرۃ سے کوئی تعلق نہیں۔اس اعتراض کے جواب میں مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک تنقید کرنے والے کے فرض کو پورا نہیں کیا۔ناقد کا یہ فرض اولین ہے کہ وہ جس کتاب یا مضمون کے متعلق تنقید کرنے لگے پہلے اس کتاب یا مضمون کا کما حقہ مطالعہ کر لے۔تا کہ جو جرح وہ کرنا چاہتا ہے اگر اس کا جواب خود اسی کتاب یا مضمون کے کسی حصہ میں آگیا ہو تو پھر وہ اس بے فائدہ تنقید کی زحمت سے بچ جاوے اور پڑھنے والوں کا بھی وقت ضائع نہ ہو۔مگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے تنقید کے شوق میں اپنے اس فرض کو بالکل نظرانداز کر دیا ہے۔اگر وہ ذرا تکلیف اُٹھا کر اس عرض حال کو پڑھ لیتے جو سیرۃ المہدی کے شروع میں درج ہے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ ان کا اعتراض پہلے سے ہی میرے مدنظر ہے اور میں اصولی طور پر اس اعتراض کا جواب دے چکا ہوں۔چنانچہ سیرۃ المہدی کے عرض حال میں میرے یہ الفاظ درج ہیں بعض باتیں اس مجموعہ میں ایسی نظر آئیں گی جن کو بظاہر حضرت مسیح موعود کی سیرۃ یا سوانح سے کوئی تعلق