سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 452
سیرت المہدی 452 حصہ دوم فرماتا ہے۔فِيْهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا (البقرة: ۲۲۰) یعنی شراب اور جوئے میں لوگوں کے لئے بہت ضرر اور نقصان ہے۔مگر ان کے اندر بعض فوائد بھی ہیں لیکن ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں۔کیسی منصفانہ تعلیم ہے۔جو اسلام ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔مگر افسوس کہ ڈاکٹر صاحب نے اس زریں اصول کو نظر انداز کر کے اپنا فرض محض یہی قرار دیا ہے کہ صرف ان باتوں کو لوگوں کے سامنے لایا جائے جو ان کی نظر میں قابل اعتراض تھیں۔میں ڈاکٹر صاحب سے امانت و دیانت کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا میری کتاب میں ان کو کوئی بھی ایسی خوبی نظر نہیں آئی جسے وہ اپنے اس طویل مضمون میں بیان کرنے کے قابل سمجھتے ؟ کیا میری تصنیف بلا استثناء محض فضول اور غلط اور قابل اعتراض باتوں کا مجموعہ ہے؟ کیا سیرۃ المہدی میں کوئی ایسی نئی اور مفید معلومات نہیں ہیں۔جنھیں اس پر تنقید کرتے ہوئے قابل ذکر سمجھا جاسکتا ہے؟ اگر ڈاکٹر صاحب کی دیانتداری کے ساتھ یہی رائے ہے کہ سیرۃ المہدی حصہ اول میں کوئی بھی ایسی خوبی نہیں جو بوقت ریویو قابل ذکر خیال کی جائے۔تو میں خاموش ہو جاؤں گا لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو میں یہ کہنے کا حق رکھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کی تنقید انصاف اور دیانت داری پر مبنی نہیں ہے اسلام کے اشد ترین دشمن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کی عداوت میں عموماً کسی چیز کی بھی پروا نہیں کرتے۔آپ کی ذات والا صفات پر ریویو کرتے ہوئے اس بات کی احتیاط کر لیتے ہیں کہ کم از کم دکھاوے کیلئے ہی آپ کی بعض خوبیاں بھی ذکر کر دی جائیں تا کہ عامۃ الناس کو یہ خیال پیدا نہ ہو کہ یہ ریویو حض عداوت پر مبنی ہے۔اور لوگ ان کی تنقید کو ایک غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تنقید خیال کر کے دھو کہ میں آجائیں۔لیکن نہ معلوم میں نے ڈاکٹر صاحب کا کونسا ایساسنگین جرم کیا ہے جس کی وجہ سے وہ میرے خلاف ایسے غضبناک ہو گئے ہیں کہ اور نہیں تو کم از کم اپنے مضمون کو مقبول بنانے کیلئے ہی ان کے ذہن میں یہ خیال نہیں آتا کہ جہاں اتنے عیوب بیان کئے ہیں وہاں دو ایک معمولی سی خوبیاں بھی بیان کر دی جائیں۔مضمون تو اس عنوان سے شروع ہوتا ہے کہ سیرۃ المہدی پر ایک نظر“ مگر شروع سے لے کر آخر