سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 439 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 439

سیرت المهدی 439 حصہ دوم حضرت صاحب کے متعلق ایسے خیال کا اظہار نہیں کیا۔واللہ اعلم۔462 بسم الله الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جس دن شب کو عشاء کے قریب حسین کا می سفیر روم قادیان آیا اس دن نماز مغرب کے بعد حضرت صاحب مسجد مبارک میں شاہ نشین پر احباب کے ساتھ بیٹھے تھے کہ آپ کو دوران سر کا دورہ شروع ہوا اور آپ شاہ نشین سے نیچے اتر کر فرش پر لیٹ گئے اور بعض لوگ آپ کو دبانے لگ گئے مگر حضور نے دیر میں سب کو ہٹا دیا۔جب اکثر دوست وہاں سے رخصت ہو گئے تو آپ نے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سے فرمایا کہ کچھ قرآن شریف پڑھ کر سنائیں۔مولوی صاحب مرحوم دیر تک نہایت خوش الحانی سے قرآن شریف سناتے رہے یہاں تک کہ آپ کو افاقہ ہو گیا۔463 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ لیکھر ام کے قتل کے واقعہ پر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کی تلاشی ہوئی تو پولیس کے افسر بعض کا غذات اپنے خیال میں مشتبہ سمجھ کر ساتھ لے گئے اور چند دن کے بعد ان کا غذات کو واپس لے کر پھر بعض افسر قادیان آئے اور چند خطوط کی بابت جس میں کسی ایک خاص امر کا کنایہ ذکر تھا حضرت صاحب سے سوال کیا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ حضرت صاحب نے فوراً بتا دیا کہ یہ خطوط محمدی بیگم کے رشتے کے متعلق ہیں اور امر معلومہ سے مراد یہی امر ہے اور یہ خط مرزا امام دین نے میرے نام بھیجے تھے جو میرا چازاد بھائی ہے اور محمدی بیگم کا حقیقی ماموں ہے۔اس پر مرزا امام دین کو پولیس والوں نے حضور کے مکان کے اندرہی بلوالیا۔اور اس سے سوال کیا کہ کیا یہ خط آپ کے لکھے ہوئے ہیں؟ وہ صاف مکر گیا۔پھر زیادہ زور دینے پر کہنے لگا کہ مجھے ٹھیک معلوم نہیں ہے۔اس پر مرزا امام دین کا خط پہچاننے کیلئے اس سے ایک سادہ کاغذ پر عبارت لکھوائی گئی تو مبصروں اور کاتبوں نے دونوں تحریروں کو ملا کر یقینی طور پر پولیس افسروں کے اوپر ثابت کر دیا کہ یہ خطوط مرزا امام دین ہی کے لکھے ہوئے ہیں۔جب مرزا امام دین کو کوئی گنجائش مفر کی نہ رہی اور پولیس افسر نے کسی قد رسختی سے پوچھا تو کہنے لگا شاید میرے ہی ہوں اور بالآخر صاف تسلیم کر لیا کہ میرے ہی ہیں اور امر معلومہ