سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 438
سیرت المهدی 438 حصہ دوم صاحب نے ان کو فوراً اندر مکان میں بلالیا اور ہم لوگوں کو حضرت صاحب نے فرما دیا کہ آپ ذرا باہر چلے جائیں۔چنانچہ ڈپٹی صاحب وغیرہ نے حضرت صاحب کے ساتھ کوئی آدھ گھنٹہ ملاقات کی اور پھر واپس چلے گئے۔ہم نے اندر جا کر حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ یہ لوگ کیوں آئے تھے ؟ جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ وہ ڈپٹی کمشنر کا ایک پیغام لائے تھے کہ لدھیانہ میں فساد کا اندیشہ ہے بہتر ہے کہ آپ کچھ عرصہ کیلئے یہاں سے تشریف لے جائیں۔حضرت صاحب نے جواب میں فرمایا کہ اب یہاں ہمارا کوئی کام نہیں ہے اور ہم جانے کو تیار ہیں لیکن سردست ہم سفر نہیں کر سکتے کیونکہ بچوں کی طبیعت اچھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ خیر کوئی بات نہیں ہم ڈپٹی کمشنر سے کہہ دیں گے اور ہمیں آپ کی ملاقات کا بہت شوق تھا سو شکر ہے کہ اس بہانہ سے زیارت ہو گئی۔اس کے بعد حضرت صاحب اندرون خانہ تشریف لے گئے اور ایک چٹھی ڈپٹی کمشنر کے نام لکھ کر لائے جس میں اپنے خاندانی حالات اور اپنی تعلیم وغیرہ کا ذکرفرمایا اور بعض خاندانی چٹھیات کی نقل بھی ساتھ لگادی۔اس چٹھی کا غلام قادر صاحب فصیح نے انگریزی میں ترجمہ کیا اور پھر اسے ڈپٹی کمشنر صاحب کے نام ارسال کر دیا گیا۔وہاں سے جواب آیا کہ آپ کیلئے کوئی ایسا حکم نہیں ہے۔آپ بے شک لدھیانہ میں ٹھہر سکتے ہیں جس پر مولوی محمد حسین نے لاہور جا کر بڑا شور برپا کیا کہ مجھے تو نکال دیا گیا ہے اور مرزا صاحب کو اجازت دی گئی ہے۔مگر کسی حاکم کے پاس اس کی شنوائی نہیں ہوئی۔اس کے بعد دیر تک حضرت صاحب لدھیانہ میں رہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے حضرت خلیفہ ثانی سے سنا ہوا ہے کہ اس موقعہ پر حضرت صاحب احتیاطاً امرتسر چلے آئے تھے اور امرتسر میں آپ کو ڈپٹی کمشنر کی چٹھی ملی تھی جس پر آپ پھر لدھیانہ تشریف لے گئے۔واللہ اعلم۔ان دونوں روایتوں میں سے کون سی درست ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں ٹھیک ہوں۔یعنی حضرت صاحب ڈپٹی دلاور علی صاحب وغیرہ کی ملاقات کے بعد احتیاطاً امرتسر چلے آئے ہوں۔لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈپٹی دلاور علی صاحب وغیرہ کو ڈپٹی کمشنر کے حکم کے متعلق غلط نبی پیدا ہو گئی تھی اور ڈپٹی کمشنر کا منشاء صرف مولوی محمدحسین کے رخصت کئے جانے کے متعلق تھا چنانچہ ڈپٹی کمشنر کے جواب سے جو دوسری جگہ نقل کیا جا چکا ہے۔پتہ لگتا ہے کہ اس نے کبھی بھی