سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 421 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 421

سیرت المہدی 421 حصہ دوم میں بچھا کرتا تھا۔اور خاص مہمان آپ کے ہمراہ دستر خوان پر بیٹھا کرتے تھے۔یہ عام طور پر وہ لوگ ہوا کرتے تھے جن کو حضرت صاحب نامزد کر دیا کرتے تھے۔ایسے دستر خوان پر تعداد کھانے والوں کی دس سے بیں چھپیں تک ہو جایا کرتی تھی۔گھر میں جب کھانا نوش جان فرماتے تھے تو آپ کبھی تنہا مگر اکثرام المومنین اور کسی ایک یاسب بچوں کو ساتھ لیکر تناول فرمایا کرتے تھے۔یہ عاجز کبھی قادیان میں ہوتا تو اس کو بھی شرف اس خانگی دستر خوان پر بیٹھنے کا مل جایا کرتا تھا۔سحری آپ ہمیشہ گھر میں ہی تناول فرماتے تھے اور ایک دو موجودہ آدمیوں کے ساتھ یا تنہا۔سوائے گھر کے باہر جب کبھی آپ کھانا کھاتے تو آپ کسی کے ساتھ نہ کھاتے تھے یہ آپ کا حکم نہ تھا مگر خدام آپ کو عزت کی وجہ سے ہمیشہ الگ ہی برتن میں کھانا پیش کیا کرتے تھے۔اگر چہ اور مہمان بھی سوائے کسی خاص وقت کے الگ الگ ہی برتنوں میں کھایا کرتے تھے۔کس طرح کھانا تناول فرماتے تھے:۔جب کھانا آگے رکھا جاتا یا دستر خوان بچھتا تو آپ اگر مجلس میں ہوتے تو یہ پوچھ لیا کرتے۔کیوں جی شروع کریں؟ مطلب یہ کہ کوئی مہمان رہ تو نہیں گیا یا سب کے آگے کھانا آ گیا۔پھر آپ جواب ملنے پر کھانا شروع کرتے اور تمام دوران میں نہایت آہستہ آہستہ چبا چبا کر کھاتے۔کھانے میں کوئی جلدی آپ سے صادر نہ ہوتی آپ کھانے کے دوران میں ہر قسم کی گفتگو فرمایا کرتے تھے۔سالن آپ بہت کم کھاتے تھے۔اور اگر کسی خاص دعوت کے موقعہ پر دو تین قسم کی چیزیں سامنے ہوں تو اکثر صرف ایک ہی پر ہاتھ ڈالا کرتے تھے اور سالن کی جور کا بی آپ کے آگے سے اُٹھتی تھی وہ اکثر ایسی معلوم ہوتی تھی کہ گویا اسے کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔بہت بوٹیاں یا ترکاری آپ کو کھانے کی عادت نہ تھی بلکہ صرف لعاب سے اکثر چھوا کرٹکڑا کھا لیا کرتے تھے۔لقمہ چھوٹا ہوتا تھا اور روٹی کے ٹکڑے آپ بہت سے کر لیا کرتے تھے۔اور یہ آپ کی عادت تھی دستر خوان سے اٹھنے کے بعد سب سے زیادہ ٹکڑے روٹی کے آپ کے آگے سے ملتے تھے اور لوگ بطور تبرک کے اُن کو اُٹھا کر کھا لیا کرتے تھے۔آپ