سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 420
سیرت المہدی 420 حصہ دوم الْمُتَكَلِّفِينَ کا عملی نظارہ خوب واضح طور پر نظر آتا تھا۔ایک بات کا ذکر کرنا میں بھول گیا وہ یہ کہ آپ امیروں کی طرح ہر روز کپڑے نہ بدلا کرتے تھے بلکہ جب ان کی صفائی میں فرق آنے لگتا تب بدلتے تھے۔خوراک کی مقدار : قرآن شریف میں کفار کیلئے وارد ہے يَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الانعام (محمد : ۱۳) اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ کا فرسات انتڑی میں کھاتا اور مومن ایک میں۔مرادان باتوں سے یہ ہے کہ مومن طیب چیز کھانے والا اور دنیا دار یا کافر کی نسبت بہت کم خور ہوتا ہے۔جب مومن کا یہ حال ہوا تو پھر انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کا تو کیا کہنا۔آنحضرت ﷺ کے دستر خوان پر بھی اکثر ایک سالن ہی ہوتا تھا۔بلکہ سنتو یا صرف کھجور یا دودھ کا ایک پیالہ ہی ایک غذا ہوا کرتی تھی۔اسی سنت پر ہمارے حضرت اقدس علیہ السلام بھی بہت ہی کم خور تھے اور بمقابلہ اس کام اور محنت کے جس میں حضوردن رات لگے رہتے تھے اکثر حضور کی غذا دیکھی جاتی تو بعض اوقات حیرانی سے بے اختیار لوگ یہ کہہ اُٹھتے تھے کہ اتنی خوراک پر یہ شخص زندہ کیونکر رہ سکتا ہے۔خواہ کھانا کیسا ہی عمدہ اور لذیذ ہو اور کیسی ہی بھوک ہو آپ کبھی حلق تک ٹھونس کر نہیں کھاتے تھے۔عام طور پر دن میں دو وقت مگر بعض اوقات جب طبیعت خراب ہوتی تو دن بھر میں ایک ہی دفعہ کھانا نوش فرمایا کرتے تھے۔علاوہ اس کے چائے وغیرہ ایک پیالی صبح کو بطور ناشتہ بھی پی لیا کرتے تھے۔مگر جہاں تک میں نے غور کیا آپ کو لذیذ مزیدار کھانے کا ہر گز شوق نہ تھا۔اوقات:۔معمولاً آپ صبح کا کھانا ، ابجے سے ظہر کی اذان تک اور شام کا نماز مغرب کے بعد سے سونے کے وقت تک کھالیا کرتے تھے۔کبھی شاذ و نادر ایسا بھی ہوتا تھا کہ دن کا کھانا آپ نے بعد ظہر کھایا ہو۔شام کا کھانا مغرب سے پہلے کھانے کی عادت نہ تھی۔مگر کبھی کبھی کھا لیا کرتے تھے۔مگر معمول دو طرح کا تھا جن دنوں میں آپ بعد مغرب، عشاء تک باہر تشریف رکھا کرتے تھے اور کھانا گھر میں کھاتے تھے ان دنوں میں یہ وقت عشاء کے بعد ہوا کرتا تھا ورنہ مغرب اور عشاء کے درمیان۔مدتوں آپ باہر مہمانوں کے ہمراہ کھانا کھایا کرتے تھے۔اور یہ دستر خوان گول کمرہ یا مسجد مبارک