سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 422 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 422

سیرت المہدی 422 حصہ دوم اس قدر کم خور تھے کہ باوجود یہ کہ سب مہمانوں کے برابر آپ کے آگے کھانا رکھا جاتا تھا مگر پھر بھی سب سے زیادہ آپ کے آگے سے بچتا تھا۔بعض دفعہ تو دیکھا گیا کہ آپ صرف روکھی روٹی کا نوالہ منہ میں ڈال لیا کرتے تھے۔اور پھر انگلی کا سرا شور بہ میں تر کر کے زبان سے چھوا دیا کرتے تھے تاکہ لقمہ نمکین ہو جاوے۔پچھلے دنوں میں جب آپ گھر میں کھانا کھاتے تھے تو آپ اکثر صبح کے وقت مکی کی روٹی کھایا کرتے تھے۔اور اس کے ساتھ کوئی ساگ یا صرف کسی کا گلاس یا کچھ مکھن ہوا کرتا تھا یا کبھی اچار سے بھی لگا کر کھالیا کرتے تھے۔آپ کا کھانا صرف اپنے کام کے لئے قوت حاصل کرنے کے لئے ہوا کرتا تھا نہ کہ لذت نفس کے لئے۔بارہا آپ نے فرمایا کہ ہمیں تو کھانا کھا کر یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ کیا پکا تھا اور ہم نے کیا کھایا۔ہڈیاں چوسنے اور بڑا نوالہ اُٹھانے ، زور زور سے چپڑ چپڑ کرنے ، ڈکاریں مارنے یا رکابیاں چاٹنے یا کھانے کے مدح و ذم اور لذائذ کا تذکرہ کرنے کی آپ کو عادت نہ تھی۔بلکہ جو پکتا تھا وہ کھا لیا کرتے تھے۔کبھی کبھی آپ پانی کا گلاس یا چائے کی پیالی بائیں ہاتھ سے پکڑ کر پیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ابتدائی عمر میں دائیں ہاتھ پر ایسی چوٹ لگی تھی کہ اب تک بوجھل چیز اس ہاتھ سے برداشت نہیں ہوتی۔اکڑوں بیٹھ کر آپ کو کھانے کی عادت نہ تھی بلکہ آلتی پالتی مار کر بیٹھتے یا بائیں ٹانگ بٹھا دیتے اور دائیاں گھٹنا کھڑا رکھتے۔کیا کھاتے تھے؟ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ مقصد آپ کے کھانے کا صرف قوت قائم رکھنا تھا نہ کہ لذت اور ذائقہ اُٹھانا اس لئے آپ صرف وہ چیزیں ہی کھاتے تھے جو آپ کی طبیعت کے موافق ہوتی تھیں اور جن سے دماغی قوت قائم رہتی تھی تا کہ آپ کے کام میں حرج نہ ہوعلاوہ بریں آپ کو چند بیماریاں بھی تھیں۔جن کی وجہ سے آپ کو کچھ پر ہیز بھی رکھنا پڑتا تھا مگر عام طور پر آپ سب طیبات ہی استعمال فرما لیتے تھے اور اگر چہ آپ سے اکثر یہ پوچھ لیا جاتا تھا کہ آج آپ کیا کھائیں گے مگر جہاں تک ہمیں معلوم ہے خواہ کچھ پکا ہو آپ اپنی ضرورت کے مطابق کھا ہی لیا کرتے تھے اور کبھی کھانے کے بدمزہ ہونے پر اپنی ذاتی وجہ سے