سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 419 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 419

سیرت المہدی 419 حصہ دوم تشریف لاتے تو ضرور ہاتھ میں ہوا کرتا تھا۔اور موٹی اور مضبوط لکڑی کو پسند فرماتے مگر کبھی اس پر سہارا یا بوجھ دے کر نہ چلتے تھے جیسے اکثر ضعیف العمر آدمیوں کی عادت ہوتی ہے۔موسم سرما میں ایک دھتہ لیکر آپ مسجد میں نماز کیلئے تشریف لایا کرتے تھے جو اکثر آپ کے کندھے پر پڑا ہوا ہوتا تھا۔اور اسے اپنے آگے ڈال لیا کرتے تھے۔جب تشریف رکھتے تو پھر پیروں پر ڈال لیتے۔کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ ،صدری، ٹوپی ، عمامہ رات کو اتار کر تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پر ٹانک دیتے ہیں۔وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے ملے جاتے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا دشمن ان کو دیکھ لے تو سر پیٹ لے۔موسم گرما میں دن کو بھی اور رات کو تو اکثر آپ کپڑے اُتار دیتے اور صرف چادر یانگی باندھ لیتے۔گرمی دانے بعض دفعہ بہت نکل آتے تو اس کی خاطر بھی کر تہ اُتار دیا کرتے۔تہ بندا اکثر نصف ساق تک ہوتا تھا اور گھٹنوں سے اوپر ایسی حالتوں میں مجھے یاد نہیں کہ آپ بر ہنہ ہوئے ہوں۔آپ کے پاس کچھ کنجیاں بھی رہتی تھیں یہ یا تو رومال میں یا اکثر ازار بند میں باندھ کر رکھتے۔روئی دار کوٹ پہننا آپ کی عادت میں داخل نہ تھا۔نہ ایسی رضائی اوڑھ کر باہر تشریف لاتے بلکہ چادر پشمینہ کی یادھہ رکھا کرتے تھے اور وہ بھی سر پر کبھی نہیں اوڑھتے تھے بلکہ کندھوں اور گردن تک رہتی تھی۔گلوبند اور دستانوں کی آپکو عادت نہ تھی۔بستر آپ کا ایسا ہوتا تھا کہ ایک لحاف جس میں پانچ چھ سیر روٹی کم از کم ہوتی تھی اور اچھالمبا چوڑا ہوتا تھا۔چادر بستر کے اوپر اور تکیہ اور تو شک۔تو شک آپ گرمی ، جاڑے دونوں موسموں میں بسبب سردی کی ناموافقت کے بچھواتے تھے۔تحریر وغیرہ کا سب کام پلنگ پر ہی اکثر فرمایا کرتے اور دوات قلم ، بستہ اور کتابیں یہ سب چیزیں پلنگ پر موجودرہا کرتی تھیں کیونکہ یہی جگہ میز کرسی اور لائبریری سب کا کام دیتی تھی۔اور مَـــا انـــا مِـنَ