سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 393 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 393

رت المهدی 393 حصہ دوم قسم کی نہیں حضور کی خدمت میں پیش کرتا رہا۔لیکن جیسا کہ ولایتی چیزوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد مال میں کچھ نقص پیدا ہو گیا اور حضرت صاحب نے مجھ سے ذکر فرمایا کہ اب یہ نب اچھا نہیں لکھتا جس پر مجھے آئندہ کیلئے اس ثواب سے محروم ہو جانے کا فکر دامنگیر ہوا اور میں نے کارخانہ کے مالک کو ولایت میں خط لکھا کہ میں اس طرح حضرت مسیح موعود کی خدمت میں تمہارے کارخانہ کی نہیں پیش کیا کرتا تھا لیکن اب تمہارا مال خراب آنے لگا ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ حضرت صاحب اس نب کے استعمال کو چھوڑ دیں گے اور اس طرح تمہاری وجہ سے میں اس ثواب سے محروم ہو جاؤں گا اور اس خط میں میں نے یہ بھی لکھا کہ تم جانتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کون ہیں؟ اور پھر میں نے حضور کے دعاوی وغیرہ کا ذکر کر کے اس کو اچھی طرح تبلیغ بھی کر دی۔کچھ عرصہ کے بعد اس کا جواب آیا جس میں اس نے معذرت کی اور ٹیڑھی نبوں کی ایک اعلیٰ قسم کی ڈبیا مفت ارسال کی جو میں نے حضرت کے حضور پیش کر دی۔اور اپنے خط اور اس کے جواب کا ذکر کیا۔حضور یہ ذکر سن کر مسکرائے مگر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جو اس وقت حاضر تھے ہنستے ہوئے فرمانے لگے کہ جس طرح شاعر اپنے شعروں میں ایک مضمون سے دوسرے مضمون کی طرف گریز کرتا ہے اس طرح آپ نے بھی اپنے خط میں گریز کرنا چاہا ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں نبوں کے پیش کرنے کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے دعاوی کا ذکر شروع کر دیا لیکن یہ کوئی گریز نہیں ہے بلکہ زبردستی ہے۔435 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دفعہ نماز استسقاء ہوئی تھی جس میں حضرت صاحب بھی شامل ہوئے تھے اور شاید مولوی محمد احسن صاحب مرحوم امام ہوئے تھے۔لوگ اس نماز میں بہت روئے تھے مگر حضرت صاحب میں چونکہ ضبط کمال کا تھا اس لئے آپ کو میں نے روتے نہیں دیکھا اور مجھے یاد ہے کہ اس کے بعد بہت جلد بادل آکر بارش ہو گئی تھی۔بلکہ شاید اسی دن بارش ہوگئی تھی۔436 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود