سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 394
سیرت المہدی 394 حصہ دوم علیہ السلام کو صرف ایک دفعہ روتے دیکھا ہے اور وہ اس طرح کہ ایک دفعہ آپ خدام کے ساتھ سیر کیلئے تشریف لے جارہے تھے اور ان دنوں میں حاجی حبیب الرحمن صاحب حاجی پورہ والوں کے داماد قادیان آئے ہوئے تھے۔کسی شخص نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور یہ قرآن شریف بہت اچھا پڑھتے ہیں۔حضرت صاحب وہیں راستہ کے ایک طرف بیٹھ گئے اور فرمایا کہ کچھ قرآن شریف پڑھ کر سنائیں۔چنانچہ انہوں نے قرآن شریف سنایا تو اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات پر میں نے بہت غور سے دیکھا مگر میں نے آپ کو روتے نہیں پایا۔حالانکہ آپ کو مولوی صاحب کی وفات کا نہایت سخت صدمہ تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بالکل درست ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت کم روتے تھے اور آپ کو اپنے آپ پر بہت ضبط حاصل تھا اور جب کبھی آپ روتے بھی تھے تو صرف اس حد تک روتے تھے کہ آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آتی تھیں۔اس سے زیادہ آپ کو روتے نہیں دیکھا گیا۔437 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں الہ دین عرف فلاسفر نے جن کی زبان کچھ آزا د واقع ہوئی ہے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی کچھ گستاخی کی جس پر حضرت مولوی صاحب کو غصہ آگیا اور اُنہوں نے فلاسفر کو ایک تھپڑ مار دیا۔اس پر فلاسفر صاحب اور تیز ہو گئے اور بہت برا بھلا کہنے لگے جس پر بعض لوگوں نے فلاسفر کوخوب اچھی طرح زدو کوب کیا۔اس پر فلاسفر نے چوک میں کھڑے ہو کر بڑے زور سے رونا چلانا شروع کر دیا اور آہ و پکار کے نعرے بلند کئے۔یہ آواز اندرون خانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کانوں تک بھی جا پہنچی اور آپ بہت سخت ناراض ہوئے۔چنانچہ آپ نماز مغرب سے قبل مسجد میں تشریف لائے تو آپ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار تھے اور آپ مسجد میں ادھر ادھر ٹہلنے لگے اس وقت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بھی موجود تھے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ اس طرح کسی کو مارنا بہت ناپسندیدہ فعل ہے اور یہ بہت بُری حرکت کی گئی ہے۔مولوی عبدالکریم صاحب نے فلاسفر کے گستاخانہ رویہ اور اپنی بریت کے متعلق کچھ عرض کیا مگر حضرت صاحب نے