سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 392
سیرت المہدی 392 حصہ دوم چنانچہ ایک دفعہ جب میں شام کے قریب قادیان سے آنے لگا تو حضرت صاحب نے اندر سے میرے واسطے کھانا منگایا جو خادم کھانا لایا وہ یونہی کھلا کھانا لے آیا۔حضرت صاحب نے اس سے فرمایا کہ مفتی صاحب یہ کھانا کس طرح ساتھ لے جائیں گے۔کوئی رومال بھی تو ساتھ لانا تھا جس میں کھانا باندھ دیا جاتا۔اچھا میں کچھ انتظام کرتا ہوں۔اور پھر آپ نے اپنے سر کی پگڑی کا ایک کنارہ کاٹ کر اس میں وہ کھانا باندھ دیا۔ایک دفعہ سفر جہلم کے دوران میں جب کہ حضور کو کثرت پیشاب کی شکایت تھی حضور نے مجھ سے فرمایا کہ مفتی صاحب ! مجھے پیشاب کثرت کے ساتھ آتا ہے کوئی برتن لائیں جس میں میں رات کو پیشاب کر لیا کروں۔میں نے تلاش کر کے ایک مٹی کا لوٹا لا دیا جب صبح ہوئی تو میں لوٹا اُٹھانے لگا تا کہ پیشاب گرا دوں مگر حضرت صاحب نے مجھے روکا اور کہا کہ نہیں آپ نہ اُٹھا ئیں میں خود گرا دوں گا اور باوجود میرے اصرار کے ساتھ عرض کرنے کے آپ نے نہ مانا اور خود ہی لوٹا اُٹھا کر مناسب جگہ پیشاب کو گرا دیا۔لیکن اس کے بعد جب پھر یہ موقع آیا تو میں نے بڑے اصرار کے ساتھ عرض کیا کہ میں گراؤں گا جس پر حضرت صاحب نے میری عرض کو قبول کر لیا نیز مفتی صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب نے ایک دفعہ مجھے دو گھڑیاں عنایت فرمائیں اور کہا کہ یہ ایک عرصہ سے ہمارے پاس رکھی ہوئی ہیں اور کچھ بگڑی ہوئی ہیں آپ انہیں ٹھیک کرالیں۔اور خود ہی رکھیں۔6434 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ اوائل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کلک کے قلم سے لکھا کرتے تھے۔اور ایک وقت میں چار چار پانچ پانچ قلمیں بنوا کر اپنے پاس رکھتے تھے۔تا کہ جب ایک قلم گھس جاوے تو دوسری کے لئے انتظار نہ کرنا پڑے کیونکہ اس طرح روانی میں فرق آتا ہے لیکن ایک دن جب کہ عید کا موقعہ تھا میں نے حضور کی خدمت میں بطور تحفہ دو ٹیڑھی نہیں پیش کیں۔اس وقت تو حضرت صاحب نے خاموشی کے ساتھ رکھ لیں لیکن جب میں لاہور واپس گیا تو دو تین دن کے بعد حضرت کا خط آیا کہ آپ کی وہ نہیں بہت اچھی ثابت ہوئی ہیں۔اور اب میں انہیں سے لکھا کروں گا۔آپ ایک ڈبیہ ویسی نبوں کی بھیج دیں۔چنانچہ میں نے ایک ڈبیہ بھجوادی اور اس کے بعد میں اسی