سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 358 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 358

سیرت المہدی 358 حصہ دوم 398 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچوں کو بدنی سزا دینے کے بہت مخالف تھے اور جس استاد کے متعلق یہ شکایت آپ کو پہنچتی تھی کہ وہ بچوں کو مارتا ہے۔اس پر بہت ناراض ہوتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو استاد بچوں کو مار کر تعلیم دینا چاہتا ہے۔یہ دراصل اس کی اپنی نالا ئکتی ہوتی ہے۔اور فرماتے تھے دانا اور عقلمند استاد جو کام حکمت سے لے لیتا ہے وہ کام نالائق اور جاہل استاد مارنے سے لینا چاہتا ہے۔ایک دفعہ مدرسہ کے ایک استاد نے ایک بچے کو کچھ سزادی تو آپ نے سختی سے فرمایا کہ پھر ایسا ہوا تو ہم اس استاد کو مدرسہ سے الگ کر دیں گے۔حالانکہ ویسے وہ استاد بڑا مخلص تھا اور آپ کو اس سے محبت تھی۔بعض اوقات فرماتے تھے کہ استاد عموما اپنے غصہ کے اظہار کے لئے مارتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ سرکاری ضابطہ تعلیم میں بھی بچوں کو بدنی سزاد ینے کی بہت ممانعت ہے اور صرف ہیڈ ماسٹر کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ کسی اشد ضرورت کے وقت مناسب بدنی سزا دے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو یہ فرمایا ہے کہ بچوں کو سزا نہیں دینی چاہیے۔اس سے یہ منشاء نہیں کہ گویا بدنی سزا بالکل ہی ناجائز ہے اور کسی صورت میں بھی نہیں دینی چاہیے۔بلکہ منشاء صرف یہ ہے کہ یہ جو بعض مدرسین میں بات بات پر سزا دینے کے لئے تیار ہو جانے کی عادت ہوتی ہے اسے سختی کے ساتھ روکا جاوے۔اور صرف خاص حالات میں خاص شرائط کے ماتحت اس کی اجازت ہو والا ویسے تو شریعت نے بھی اپنی تعزیرات میں بدنی سزا کو رکھا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بھی بعض اوقات بچوں کو بدنی سزا دی ہے۔لیکن غصہ سے مغلوب ہوکر مار نا یا بات بات پر مارنا یا بری طرح مارنا وغیر ذالک۔یہ ایسی باتیں ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے مگر افسوس ہے اور میں اپنے چشم دید تجربہ کی بنا پر یہ کہتا ہوں کہ اکثر استاد خواہ وہ اسے خود محسوس کریں یا نہ کریں۔غصہ سے مغلوب ہونے کی حالت میں سزا دیتے ہیں۔یعنے جب بچے کی طرف سے کوئی غفلت یا جرم کا ارتکاب ہوتا ہے تو اس وقت اکثر استادوں کی طبیعت میں نہایت غصہ اور غضب کی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور اس حالت سے مغلوب ہو کر وہ سزا دیتے ہیں اور اس میں اصلاح کا خیال عملاً مفقود ہوتا ہے۔بلکہ