سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 359 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 359

سیرت المہدی 359 حصہ دوم ایک گونہ انتقام کا رنگ اور اپنا غصہ نکالنے کی صورت ہوتی ہے۔جو بجائے مفید ہونے کے الٹا نقصان کا موجب ہو جاتی ہے۔اس نقص کی اصلاح کے لئے یہ ایک عمدہ قاعدہ ہے کہ کوئی ماتحت استاد بدنی سزا نہ دے۔بلکہ جب اسے یہ ضرورت محسوس ہو کہ کسی لڑکے کو بدنی سزاملنی چاہیے تو وہ اسے ہیڈ ماسٹر کے پاس بھیج دے اور پھر اگر ہیڈ ماسٹر مناسب سمجھے تو اسے بدنی سزا دے۔اس طرح علاوہ اس کے کہ ہیڈ ماسٹر بالعموم ایک زیادہ تجربہ کار اور زیادہ قابل اور زیادہ فہمیدہ شخص ہوتا ہے۔چونکہ اسے اس معاملہ میں کوئی ذاتی غصہ نہیں ہوگا۔اس لئے اس کی سزا مصلحانہ ہوگی اور کوئی ضرر رساں اثر پیدا نہیں کرے گی۔اور اگر ہیڈ ماسٹر بطور خود کسی بچے کو بدنی سزا دینی چاہے تو اس کے لئے میری رائے میں یہ قید ضروری ہے کہ وہ جس وقت سزا کا فیصلہ کرے اس وقت کے اور عملاً سزا دینے کے وقت کے درمیان کچھ مناسب وقفہ رکھے تا کہ اگر اس کا یہ فیصلہ کسی مخفی اور غیر محسوس جذبہ انتقام کے ماتحت ہو یا غصہ یا غضب کی حالت سے مغلوب ہوکر دیا گیا ہوتو وہ بعد کے ٹھنڈے لمحات میں اپنے اس فیصلہ میں ترمیم کر سکے۔واللہ اعلم۔399 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ بعض اوقات ہماری جماعت کے طالب علم مجھے امتحانوں میں کامیابی کی دعا کیلئے کہتے ہیں اور گو یہ ایک معمولی سی بات ہوتی ہے۔لیکن میں ان کے واسطے توجہ کے ساتھ دعا کرتا ہوں کہ اس طرح ان کو دعا کی طرف رغبت اور خیال پیدا ہو۔400 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھے سے بیان کیا کہ ایک دن سخت گرمی کے موسم میں چند احباب دو پہر کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اندر حاضر ہوئے جہاں حضور تصنیف کا کام کر رہے تھے۔پنکھا بھی اس کمرہ میں نہ تھا بعض دوستوں نے عرض کیا کہ حضور کم از کم پنکھا تو لگوالیں تا کہ اس سخت گرمی میں حضور کو کچھ آرام تو ہو۔حضور نے فرمایا کہ اس کا یہی نتیجہ ہو گا نا کہ آدمی کو نیند آنے لگے اور وہ کام نہ کر سکے۔ہم تو وہاں کام کرنا چاہتے ہیں جہاں گرمی کے مارے لوگوں کا تیل نکلتا ہو۔یہ بات میں نے ان لوگوں سے سنی ہے جو اس وقت مجلس میں موجود تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ