سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 357 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 357

سیرت المہدی 357 حصہ دوم 394 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب مولوی محمد علی صاحب سے کوئی بات وغیرہ دریافت کرنی ہوتی تھی تو آپ بجائے اس کے کہ ان کو اپنے پاس بلا بھیجتے خود مولوی صاحب کی کوٹھری میں تشریف لے آیا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں مولوی محمد علی صاحب آپ کے مکان کے ایک حصہ میں رہائش رکھا کرتے تھے اور ان کا کام کرنے کا دفتر اس چھوٹی سی کوٹھری میں ہوتا تھا۔جو مسجد مبارک کے ساتھ جانب شرق واقع ہے۔395 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ ہمیں یہ خیال آیا تھا کہ تبلیغ کے لئے انگریزی کے سیکھنے کی طرف توجہ کریں اور ہمیں امید تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے ہمیں اس کا علم عطا کر دے گا۔بس صرف ایک دورات دُعا کی ضرورت تھی۔لیکن پھر یہ خیال آیا کہ مولوی محمد علی صاحب اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی انگریزی کی تعریف بھی کی جاتی ہے۔اس لئے ہماری توجہ اس امر کی طرف سے ہٹ گئی۔396 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی زندگی کے آخری سالوں میں فرماتے تھے کہ اب تبلیغ و تصنیف کا کام تو ہم اپنی طرف سے کر چکے اب ہمیں باقی ایام دُعا میں مصروف ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے دنیا میں حق وصداقت کو قائم فرمائے اور ہمارے آنے کی غرض پوری ہو۔چنانچہ اسی خیال کے ماتحت آپ نے اپنے گھر کے ایک حصہ میں ایک بیت الڈ عا بنوائی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بیت الدعا حضرت صاحب کے رہائشی کمرے کے ساتھ واقع ہے اور اس کی پیمائش شمالاً جنوباً چارفٹ دس انچ اور شرقا غر با پانچ فٹ سات انچ ہے۔6397 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت اور مجلس میں بیٹھنے سے دل میں خوشی اور بشاشت اور اطمینان پیدا ہوتے تھے اور خواہ انسان کتنا بھی متفکر اور غمگین یا مایوس ہو ، آپ کے سامنے جاتے ہی قلب کے اندر مسرت اور سکون کی ایک لہر دوڑ جاتی تھی۔