سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 334
سیرت المہدی 334 حصہ دوم علیه السلام گو در اصل دعوی سے قبل بھی کسی گروہ سے اس قسم کا تعلق نہیں رکھتے تھے۔جس سے تعصب یا جتھہ بندی کا رنگ ظاہر ہو لیکن اصولاً آپ ہمیشہ اپنے آپ کو منفی ظاہر فرماتے تھے اور آپ نے اپنے لئے کسی زمانہ میں بھی اہل حدیث کا نام پسند نہیں فرمایا۔حالانکہ اگر عقائد و تعامل کے لحاظ سے دیکھیں تو آپ کا طریق حنفیوں کی نسبت اہل حدیث سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔360 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک مولوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور الگ ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔جب وہ آپ سے ملا تو باتوں باتوں میں اس نے کئی دفعہ یہ کہا کہ میں حنفی ہوں اور تقلید کو اچھا سمجھتا ہوں وغیر ذالک۔آپ نے اس سے فرمایا کہ ہم کوئی حنفیوں کے خلاف تو نہیں ہیں کہ آپ بار بار اپنے حنفی ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔میں تو ان چار اماموں کو مسلمانوں کیلئے بطور ایک چار دیواری کے سمجھتا ہوں جس کی وجہ سے وہ منتشر اور پراگندہ ہونے سے بچ گئے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ ہر شخص اس بات کی اہلیت نہیں رکھتا کہ دینی امور میں اجتہاد کرے۔پس اگر یہ ائمہ نہ ہوتے تو ہر اہل و نا اہل آزادانہ طور پر اپنا طریق اختیار کرتا۔اور امت محمدیہ میں ایک اختلاف عظیم کی صورت قائم ہو جاتی مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان چار اماموں نے جو اپنے علم و معرفت اور تقویٰ و طہارت کی وجہ سے اجتہاد کی اہلیت رکھتے تھے۔مسلمانوں کو پراگندہ ہو جانے سے محفوظ رکھا۔پس یہ امام مسلمانوں کے لئے بطور ایک چار دیواری کے رہے ہیں اور ہم ان کی قدر کرتے اور ان کی بزرگی اور احسان کے معترف ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یوں تو سارے اماموں کو عزت کی نظر سے دیکھتے تھے مگر امام ابو حنیفہ کو خصوصیت کے ساتھ علم ومعرفت میں بڑھا ہوا سمجھتے تھے اور ان کی قوت استدلال کی بہت تعریف فرماتے تھے۔361 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی سختی کے ساتھ اس بات پر زور دیتے تھے کہ مقتدی کو امام کے پیچھے بھی سورۃ فاتحہ پڑھنی ضروری ہے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی فرماتے تھے کہ باوجود سورۃ فاتحہ کو ضروری سمجھنے کے میں یہ نہیں کہتا کہ جو شخص سورة