سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 333 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 333

سیرت المہدی 333 حصہ دوم 359 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ روشن علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی دینی ضرورت کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو یہ لکھا کہ آپ یہ اعلان فرما دیں کہ میں حنفی المذہب ہوں حالانکہ آپ جانتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب عقید تا اہل حدیث تھے۔حضرت مولوی صاحب نے اس کے جواب میں حضرت صاحب کی خدمت میں ایک کارڈ ارسال کیا جس میں لکھا به می سجاده رنگین کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بے خبر نبود زراہ ورسم منزلها اور اس کے نیچے ” نور الدین حنفی کے الفاظ لکھ دیئے۔اس کے بعد جب مولوی صاحب حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت صاحب نے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ مولوی صاحب حنفی مذہب کا اصول کیا ہے؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور اصول یہ ہے کہ قرآن شریف سب سے مقدم ہے اگر اس کے اندر کوئی مسئلہ نہ ملے تو آنحضرت ﷺ کے فعل وقول کو دیکھنا چاہیے جس کا حدیث سے پتا لگتا ہے اور اس کے بعد اجماع اور قیاس سے فیصلہ کرنا چاہیے۔حضرت صاحب نے فرمایا تو پھر مولوی صاحب آپ کا کیا مذہب ہے؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرا بھی یہی مذہب ہے۔اس پر حضرت صاحب نے اپنی جیب سے مولوی صاحب کا وہ کارڈ نکالا اور ان کی طرف پھینک کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ پھر اس کا کیا مطلب ہے؟ مولوی صاحب شرمندہ ہو کر خاموش ہو گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے جو شعر لکھا تھا اس کا یہ مطلب تھا کہ اگر چہ میں اپنی رائے میں تو اہل حدیث ہوں۔لیکن چونکہ میرا پیر طریقت کہتا ہے کہ اپنے آپ کو حنفی کہو اس لئے میں اس کی رائے پر اپنی رائے کو قربان کرتا ہوا اپنے آپ کو شفی کہتا ہوں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ احمدیت کے چرچے سے قبل ہندوستان میں اہل حدیث کا بڑا چرچا تھا اور حنفیوں اور اہل حدیث کے درمیان ( جن کو عموماً لوگ وہابی کہتے ہیں ) بڑی مخالفت تھی اور آپس میں مناظرے اور مباحثے ہوتے رہتے تھے اور یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے گو یا جانی دشمن ہورہے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف فتوی بازی کا میدان گرم تھا۔حضرت مسیح موعود