سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 335
سیرت المہدی 335 حصہ دوم فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔کیونکہ بہت سے بزرگ اور اولیاء اللہ ایسے گذرے ہیں جو سورۃ فاتحہ کی تلاوت ضروری نہیں سمجھتے تھے۔اور میں ان کی نمازوں کو ضائع شدہ نہیں سمجھ سکتا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حنفیوں کا عقیدہ ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی کو خاموش کھڑے ہو کر اس کی تلاوت کو سننا چاہیے اور خود کچھ نہیں پڑھنا چاہیے۔اور اہل حدیث کا یہ عقیدہ ہے کہ مقتدی کے لئے امام کے پیچھے بھی سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے اور حضرت صاحب اس مسئلہ میں اہل حدیث کے مؤید تھے مگر باوجود اس عقیدہ کے آپ غالی اہل حدیث کی طرح یہ نہیں فرماتے تھے کہ جو شخص سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔362 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ عصمت جو تمہاری سب سے بڑی بہن تھی وہ جمعہ سے پہلی رات کو صبح کی نماز سے قبل پیدا ہوئی تھی اور بشیر اول اتوار سے قبل رات کو بعد از نصف شب پیدا ہوا تھا اور محمود ( یعنی حضرت خلیفہ ثانی) ہفتہ سے پہلی رات کو دس گیارہ بجے کے قریب پیدا ہوئے تھے اور شوکت پیر کے دن چار بجے شام کے پیدا ہوئی تھی اور تم ( یعنی یہ خاکسار ) جمعرات کی صبح کو بعد طلوع آفتاب پیدا ہوئے تھے اور شریف بھی جمعرات کی صبح کو قبل طلوع آفتاب پیدا ہوئے تھے اور مبارکہ منگل سے پہلی رات کے نصف اول میں پیدا ہوئی تھیں۔اور مبارک بدھ کے دن سہ پہر کے وقت پیدا ہوا تھا اور امۃ النصیر کے متعلق یاد نہیں اور امۃ الحفیظ شائد پیر سے پہلی رات عشاء کے بعد پیدا ہوئی تھیں۔نیز والدہ صاحبہ نے بیان فرمایا کہ جب مبارکہ پیدا ہونے لگیں تو حضرت صاحب نے دُعا کی تھی کہ خدا اسے منگل کے شدائد والے ) اثر سے محفوظ رکھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دن اپنی تاثیرات اور افاضہ برکات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحفہ گولڑویہ میں مفصل بحث کی ہے یہ تاثیرات قانون نیچر کے ماتحت ستاروں کے اثر کا نتیجہ ہیں۔363 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی محمد علی صاحب کے پاس سفارش کی کہ مولوی یار محمد صاحب کو مدرسہ میں بطور مدرس کے لگا لیا جاوے۔مولوی محمد علی صاحب نے عرض کیا کہ حضور تو ان کی حالت کو جانتے ہیں۔حضرت