سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 301
سیرت المہدی 301 حصہ دوم جس کا خدا کے دربار میں کچھ بھی وزن نہیں۔اعمال کا ایک پہاڑ جو عشق و محبت سے معترا ہے محبت کے ایک ذرہ سے جو اعمال سے خالی ہو وزن میں کمتر ہے۔مجھے وہ وقت کبھی نہیں بھولتا۔جب میں نے حدیث میں یہ پڑھا کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا کہ تم جو قیامت کا پوچھتے ہو تو اس کیلئے تم نے تیاری کیا کی ہے؟ اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ نماز ، روزہ اور صدقہ وغیرہ کی تیاری تو زیادہ ہے نہیں۔مگر ہاں اللہ اور اس کے رسول کی محبت دل میں رکھتا ہوں، مجھے وہ وقت نہیں بھولا کہ جب میں نے اس شخص کا یہ قول پڑھا اور میری خوشی کی کوئی حد نہ رہی اور میں اس خوشی کو کبھی نہیں بھولوں گا اور نہ بھول سکتا ہوں کہ جب میری نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداه نفسی ) کے اس جواب پر پڑی کہ انتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ یعنی تسلی رکھ تو وہیں رکھا جاویگا جہاں تیرے محبوب لوگ ہوں گے ایک اور دوسرے موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ الْمَرْأُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ یعنی انسان کو اس کے محبوب لوگوں کے پاس رکھا جاوے گا۔میرا یہ مطلب نہیں حاشا وکلا کہ اعمال کے پہلو کو کمزور کر کے دکھاؤں۔قرآن شریف نے مومن کی شان میں جہاں جہاں بھی ایمان کا ذکر کیا ہے وہاں لازماً ساتھ ہی اعمال صالح کا بھی ذکر کیا ہے۔اور یہ بات عقلاً بھی محال ہے کہ محبت اور ایمان تو ہومگر اعمال صالح کے بجالانے کی خواہش اور کوشش نہ ہو عملی کمزوری ہو جانا ایک علیحدہ امر ہے مگر سنت نبوی کی اتباع اور اعمال صالح کے بجالانے کی خواہش اور کوشش کبھی ایمان سے جدا نہیں ہو سکتے اور جو شخص محبت کا مدعی ہے اور اپنے محبوب کے احکام اور منشاء کے پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتا وہ اپنے دعوی میں جھوٹا ہے۔پس میرے اس بیان سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ اعمال کی اہمیت کو کم کر کے دکھاؤں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اخلاص و محبت کی اہمیت کو واضح کروں اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کروں کہ خشک ملانوں کی طرح آنکھیں بند کر کے محض شریعت کے پوست پر چنگل مارے رکھنا ہرگز فلاح کا راستہ نہیں ہے۔325 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ تمہارے بھائی مبارک احمد مرحوم سے بچپن کی بے پروائی میں قرآن شریف کی کوئی بے حرمتی ہوگئی اس پر حضرت مسیح موعود