سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 300
سیرت المہدی 300 حصہ دوم پرستی غالب آجاتی ہے۔گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی کا اصول جیسا کہ اشخاص کے معاملہ میں چسپاں ہوتا ہے۔ویسا ہی دوسرے امور میں بھی صادق آتا ہے اور یہ سوال کہ دنوں کی تاثیرات میں تفاوت کیوں اور کس وجہ سے ہے۔یہ ایک علمی سوال ہے جس کے اُٹھانے کی اس جگہ ضرورت نہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حصہ اول کی منگل والی روایت میں ایک غلطی واقع ہوگئی تھی جواب حصہ دوئم کی روایت نمبر ۱۱ میں درست کر دی گئی ہے۔324 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق ذاتی کا مطالعہ کیا جاوے تو خدا اور اس کے رسول کی محبت ایک نہایت نمایاں حصہ لئے ہوئے نظر آتی ہے۔آپ کی ہر تقریر وتحریر ہر قول و فعل ہر حرکت و سکون اسی عشق و محبت کے جذبہ سے لبریز پائے جاتے ہیں۔اور یہ عشق اس درجہ کمال کو پہنچا ہوا تھا کہ تاریخ عالم میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔دشمن کی ہر سختی کو آپ اس طرح برداشت کر جاتے تھے کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں اور اس کی طرف سے کسی قسم کی ایذا رسانی اور تکلیف دہی اور بد زبانی آپ کے اندر جوش و غیظ و غضب کی حرکت نہ پیدا کرسکتی تھی مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود کے خلاف ذراسی بات بھی آپ کے خون میں وہ جوش اور ابال پیدا کر دیتی تھی کہ اس وقت آپ کے چہرہ پر جلال کیوجہ سے نظر نہ جم سکتی تھی۔دشمن اور دوست ، اپنے اور بیگانے سب اس بات پر متفق ہیں کہ جو عشق و محبت آپ کو سرور کائنات کی ذات والا صفات سے تھا اس کی نظیر کسی زمانہ میں کسی مسلمان میں نہیں پائی گئی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کی زندگی کا ستون اور آپ کی روح کی غذا بس یہی محبت ہے۔جس طرح ایک عمدہ قسم کے اسفنج کا ٹکڑہ جب پانی میں ڈال کر نکالا جاوے تو اس کا ہر رگ وریشہ اور ہرخانہ وگوشہ پانی سے بھر پور نکلتا ہے اور اس کا کوئی حصہ ایسا نہیں رہتا کہ جس میں پانی کے سوا کوئی اور چیز ہو، اسی طرح ہر دیکھنے والے کو نظر آتا تھا کہ آپ کے جسم اور روح مبارک کا ہر ذرہ عشق الہی اور عشق رسول سے ایسا بھر پور ہے کہ اس میں کسی اور چیز کی گنجائش نہیں اللهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِ وَعَلَى مُطَاعِهِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّم۔واقعی جو ایمان محبت سے خالی ہے وہ ایک کوڑی کے مول کا نہیں۔وہ ایک خشک فلسفیانہ عقیدہ ہے