سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 302
سیرت المہدی 302 حصہ دوم کو اتنا غصہ آیا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے بڑے غصہ میں مبارک احمد کے شانہ پر ایک طماچہ مارا جس سے اس کے نازک بدن پر آپ کی انگلیوں کا نشان اُٹھ آیا اور آپ نے اس غصہ کی حالت میں فرمایا کہ اسکو اس وقت میرے سامنے سے لے جاؤ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مبارک احمد مرحوم ہم سب بھائیوں میں سے عمر میں چھوٹا تھا اور حضرت صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا۔حضرت صاحب کو اس سے بہت محبت تھی چنانچہ اس کی وفات پر جو شعر آپ نے کتبہ پر لکھے جانے کیلئے کہے اس کا ایک شعر یہ ہے جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خُو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر مبارک احمد بہت نیک سیرت بچہ تھا اور وفات کے وقت اس کی عمر صرف کچھ اوپر آٹھ سال کی تھی۔لیکن حضرت صاحب نے قرآن شریف کی بے حرمتی دیکھ کر اس کی تادیب ضروری سمجھی۔326 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں نبی بخش صاحب متوطن بن باجوہ ضلع سیالکوٹ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں میں نے عرض کیا کہ میں حضور کے واسطے ایک انگوٹھی بنا کر پیش کرنا چاہتا ہوں اسکے نگینہ پر کیا الفاظ لکھے جاویں؟ حضرت صاحب نے فرمایا مولا بس، کے الفاظ لکھ دیں۔چنانچہ میں نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنا کر حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ وہی انگوٹھی ہے جس کا سیرۃ المہدی حصہ اول کی روایت نمبر ۱۶ میں ذکر گزر چکا ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ”مولا بس“ کے الفاظ گویا ایک طرح الیس الله بکاف عبده “ کا ترجمہ ہیں اور اس حالت رضا و فنا کو ظاہر کر رہی ہیں جو حضرت مسیح موعود کے قلب صافی پر ہر وقت طاری رہتی تھی۔327 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اترے ہوئے کپڑوں کو ناک کے ساتھ لگا کر سونگھا ہے۔مجھے کبھی بھی ان میں پسینہ کی بو نہیں آئی۔یہ خیال مجھے اس طرح آیا کہ میں نے اپنی والدہ صاحبہ ( خاکسار کی نانی اماں ) سے یہ سنا تھا کہ جس طرح اور لوگوں کے کپڑوں میں پسینہ کی بو ہوتی ہے اس طرح حضرت صاحب کے کپڑوں