سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 292
سیرت المہدی 292 حصہ دوم یقیناً میرے لئے سزا مقدر تھی اور اگر جھوٹ بول کر واقعہ سے انکار کر دیتا تو محکمہ ڈاک کسی اور ذریعہ سے میرے خلاف الزام ثابت نہیں کر سکتا تھا۔چنانچہ میرے وکیل نے بھی مجھے یہ مشورہ دیا کہ اگر بچنا چاہتے ہیں تو انکار کر دیں مگر میں نے یہی جواب دیا کہ خواہ کچھ ہو جاوے میں خلاف واقعہ بیان نہیں کروں گا اور جھوٹ بول کر اپنے آپ کو نہیں بچاؤں گا۔وغیرہ وغیرہ۔مولوی صاحب نے کہا کہ حضرت صاحب کے اس بیان کے خلاف بعض غیر احمدیوں نے بڑے زور شور کے ساتھ یہ شائع کیا ہے کہ یہ ساری بات بناوٹی ہے۔ڈاک خانہ کا کوئی ایسا قاعدہ نہیں ہے جو بیان کیا جاتا ہے اور گویا نعوذ باللہ یہ سارا قصہ مقدمہ کا اپنی راست گفتاری ثابت کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔والا ڈاکخانہ کا وہ قاعدہ پیش کیا جائے۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اس اعتراض کی فکر تھی اور میں نے محکمہ ڈاک کے پرانے قوانین کی دیکھ بھال شروع کی تو ۱۸۶۶ء کے ایکٹ نمبر ۱۴ دفعہ ۱۲ و ۵۶ اور نیز گورنمنٹ آف انڈیا کے نوٹیفکیشن نمبر ۲۴۴۲ مورخہ ۷ / دسمبر ۱۸۷۷ء دفعہ ۴۳ میں صاف طور پر یہ حوالہ نکل آیا کہ فلاں فعل کا ارتکاب جرم ہے جس کی سزا یہ ہے یعنی وہی جو حضرت صاحب نے لکھی تھی اور اس پر مزید علم یہ حاصل ہوا کہ ایک عینی شہادت اس بات کی مل گئی کہ واقع میں حضرت صاحب کے خلاف محکمہ ڈاک کی طرف سے ایسا مقدمہ ہوا تھا اور وہ اس طرح پر کہ میں اس حوالہ کا ذکر گورداسپور میں ملک مولا بخش صاحب احمدی کلرک آف دی کورٹ کے ساتھ کر رہا تھا کہ اوپر سے شیخ نبی بخش صاحب وکیل آگئے جو کہ گورداسپور کے ایک بہت پرانے وکیل ہیں اور سلسلہ احمدیہ کے مخالفین میں سے ہیں چنانچہ انہوں نے مولوی کرم دین جہلمی والے مقدمہ میں بڑی سرگرمی سے حضرت صاحب کے خلاف مقدمہ کی پیروی کی تھی۔انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ یہ مقدمہ میرے سامنے گورداسپور میں ہوا تھا اور مرزا صاحب کی طرف سے شیخ علی احمد وکیل مرحوم نے پیروی کی تھی۔چنانچہ مولوی فضل دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے کہنے پر شیخ نبی بخش نے مجھے ایک تحریری شہادت لکھ دی جس کی عبارت یہ ہے:۔” مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مرزا صاحب پر ڈاک خانہ والوں نے مقدمہ فوجداری دائر کیا تھا اور وہ پیروی کرتے تھے۔مرزا صاحب کی طرف سے شیخ علی احمد وکیل پیروکار تھے۔میں اور شیخ علی احمد کچہری میں اکٹھے