سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 293
سیرت المہدی 293 حصہ دوم کھڑے تھے جبکہ مرزا صاحب (ان کو اپنا مقدمہ بتا رہے تھے۔خواہ مقدمہ کم محصول کا تھا یا لفافہ ( میں ) مختلف مضامین کے کاغذات ( ڈالنے ) کا تھا۔بہر حال اسی قسم ( کا ) تھا۔چونکہ میں نے پیروی نہیں کی اس لئے دفعہ یاد نہیں رہی۔فقط نبی بخش ۲۲ / جنوری ۱۹۲۴ء۔‘ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مقدمہ کا ذکر ” آئینہ کمالات اسلام میں کیا ہے۔316 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت صاحب کو بیعت لینے کا حکم آیا تو سب سے پہلی دفعہ لدھیانہ میں بیعت ہوئی۔ایک رجسٹر بیعت کنندگان تیار کیا گیا جس کی پیشانی پر لکھا گیا بیعت تو بہ برائے حصول تقوی وطہارت اور نام معہ ولدیت وسکونت لکھے جاتے تھے۔اوّل نمبر حضرت مولوی نورالدین صاحب بیعت میں داخل ہوئے ، دوئم میر عباس علی صاحب، ان کے بعد شائد خاکسار ہی سوئم نمبر پر جاتا لیکن میر عباس علی صاحب نے مجھ کو قاضی خواجہ علی صاحب کے بلانے کے لئے بھیج دیا کہ اُن کو بلا لاؤ غرض ہمارے دونوں کے آتے آتے سات آدمی بیعت میں داخل ہو گئے ان کے بعد نمبر آٹھ پر قاضی صاحب بیعت میں داخل ہوئے اور نمبر نو میں خاکسار داخل ہوا پھر حضرت صاحب نے فرمایا کہ شاہ صاحب اور کسی بیعت کرنے والے کو اندر بھیج دیں۔چنانچہ میں نے چوہدری رستم علی صاحب کو اندر داخل کر دیا اور دسویں نمبر پر وہ بیعت ہو گئے۔اس طرح ایک ایک آدمی باری باری اندر جا تا تھا۔اور دروازہ بند کر دیا جا تا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیعت اولیٰ میں بیعت کرنے والوں کی ترتیب کے متعلق روایات میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے جو یا تو کسی راوی کے نسیان کی وجہ سے ہے اور یا یہ بات ہے کہ جس نے جو حصہ دیکھا اس کے مطابق روایت بیان کر دی ہے۔6317 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرمایا کرتے تھے کہ ابھی ہماری عمر میں سال کی ہی تھی کہ بال سفید ہونے شروع ہو گئے تھے اور میرا خیال ہے کہ پچپن سال کی عمر تک آپ کے سارے بال سفید ہو چکے ہوں گے۔اس کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کے حالات