سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 291
سیرت المہدی 291 حصہ دوم تاریک کنوئیں میں ڈال دیا جاوے گا۔واللہ اعلم۔313 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت اقدس علیہ السلام بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ ایک خون کے مقدمہ میں میں اسیسر مقرر ہوا تھا چنانچہ آپ اسیسر بنے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا سلطان احمد صاحب کی روایت سے پتہ لگتا ہے کہ آپ اسیر نہیں بنے تھے بلکہ انکار کر دیا تھا۔سویا تو کسی صاحب کو ان میں سے نسیان ہوا ہے یا ہر دوروایتیں دو مختلف واقعات کے متعلق ہیں۔واللہ اعلم۔314 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ یہ جو سیرۃ المہدی حصہ اوّل میں میاں عبداللہ صاحب سنوری کی روایت سے حضرت کا الہام درج ہوا ہے کہ سلطنت برطانیہ تا هفت سال۔بعد ازاں باشد خلاف واختلال۔اور حاجی عبدالمجید صاحب کی یہ روایت درج ہوئی ہے کہ سلطنت برطانیہ تا ہشت سال۔بعد ازاں ایام ضعف و اختلال۔یہ میرے خیال میں درست نہیں ہے۔میں نے حضرت صاحب سے یہ الہام اس طرح پر سُنا ہے۔قوت برطانیہ تا ہشت سال۔بعد ازاں ایام ضعف و اختلال۔میں نے اس کے متعلق حضرت سے عرض کیا کہ اس میں روحانی اور مذہبی طاقت کا ذکر معلوم ہوتا ہے۔یعنی ہشت سال کے بعد سلطنت برطانیہ کی مذہبی طاقت یعنی عیسائیت میں ضعف رونما ہو جائیگا۔اور سچے مذہب یعنی اسلام اور احمدیت کا غلبہ شروع ہو جائے گا۔حضرت نے فرمایا کہ جو ہوگا وہ ہور ہیگا ہم پیش از وقت کچھ نہیں کہہ سکتے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میری رائے میں الفاظ الہام کے متعلق پیر صاحب کی روایت درست معلوم ہوتی ہے۔واللہ اعلم۔315 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی فضل دین صاحب پلیڈ ر قادیان نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ محکمہ ڈاک کی طرف سے میرے خلاف مقدمہ ہوا تھا۔جس میں فیصلہ کا سارا دارو مدار میرے بیان پر تھا یعنی اگر میں سچ بول کر صحیح صحیح واقعہ بتا دیتا تو قانون کی رو سے