سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 21
سیرت المہدی 21 حصہ اوّل مدرسہ گیا تو بعض لڑکوں نے مجھے کہا کہ وہ جو قادیان کے مرزا صاحب تمہارے گھر میں ہیں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں اور یہ کہ آنے والے مسیح وہ خود ہیں۔ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ میں نے ان کی تردید کی کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے حضرت عیسی تو زندہ ہیں اور آسمان سے نازل ہوں گے۔خیر جب میں گھر آیا تو حضرت صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں نے سنا ہے آپ کہتے ہیں کہ آپ مسیح ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ میرا یہ سوال سن کر حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ اُٹھے اور کمرے کے اندر الماری سے ایک نسخہ کتاب فتح اسلام ( جو آپ کی جدید تصنیف تھی ) لا کر مجھے دے دیا اور فرمایا اسے پڑھو۔ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہے کہ آپ نے ایک چھوٹے بچے کے معمولی سوال پر اس قدر سنجیدگی سے توجہ فرمائی ورنہ یونہی کوئی بات کہہ کر ٹال دیتے۔27 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ میں حدیث میں یہ پڑھتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بال صحابہ برکت کے لئے رکھتے تھے اس خیال سے میں نے ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور مجھے اپنے کچھ بال عنایت فرماویں۔چنانچہ جب آپ نے حجامت کرائی تو مجھے اپنے بال بھجوا دیئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے پاس بھی حضرت صاحب کے کچھ بال رکھے ہیں۔28 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے قاضی امیرحسین صاحب نے کہ ایک دفعہ جب مولوی صاحب ( حضرت خلیفہ اوّل) قادیان سے باہر گئے ہوئے تھے میں مغرب کی نماز میں آیا تو دیکھا کہ آگے حضرت مسیح موعود خود نماز پڑھا رہے تھے۔قاضی صاحب نے فرمایا کہ حضرت صاحب نے چھوٹی چھوٹی دو سورتیں پڑھیں مگر سوز و درد سے لوگوں کی چیچنیں نکل رہی تھیں۔جب آپ نے نماز ختم کرائی تو میں آگے ہوا مجھے دیکھ کر آپ نے فرمایا قاضی صاحب میں نے آپ کو بہت تلاش کیا مگر آپ کو نہیں پایا۔مجھے اس نماز میں سخت تکلیف ہوئی ہے۔عشاء کی نماز آپ پڑھائیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ابتدائی زمانہ کی بات ہوگی۔