سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 22
سیرت المہدی 22 حصہ اوّل 29 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جن دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کرم دین سے گورداسپور میں مقدمہ تھا اور آپ گورداسپور گئے ہوئے تھے۔ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ سب لوگ کچہری میں چلے گئے یا ادھر ادھر ہو گئے اور حضرت صاحب کے پاس صرف میں اور مفتی صادق صاحب رہ گئے۔حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سورہے ہیں۔اسی حالت میں آپ نے سر اُٹھایا اور کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے لکھ لو۔اتفاق ایسا ہوا کہ اس وقت وہاں کوئی قلم دوات یا پنسل موجود نہ تھی آخر ہم باورچی خانہ سے ایک کوئلہ لائے اور اس سے مفتی صاحب نے کاغذ پر لکھا۔آپ پھر اسی طرح لیٹ گئے تھوڑی دیر کے بعد پھر آپ نے الہام لکھایا۔غرض اسی طرح آپ نے اس وقت چند الہامات لکھائے۔مولوی صاحب نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک الہام مجھے یاد ہے اور وہ یہ ہے یسئلونک عن شانک قل الله ثم ذرهم في خوضهم يلعبون“۔یعنی تیری شان کے متعلق سوال کریں گے تو ان سے کہہ دے اللہ پھر چھوڑ دے ان کو ان کی بیہودہ گوئی میں۔دوسرے دن جب آپ عدالت میں پیش ہوئے تو وکیل مستغیث نے آپ سے منجملہ اور سوالات کے یہ سوال بھی کیا کہ یہ جو آپ نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں اپنے متعلق لکھا ہے اور اس نے اس کتاب سے ایک عبارت پڑھ کر سنائی جس میں آپ نے بڑے زور دار الفاظ میں اپنے علو مرتبت کے متعلق فقرات لکھے ہیں۔کیا آپ واقعی ایسی ہی اپنی شان سمجھتے ہیں؟ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہاں یہ اللہ کا فضل ہے یا کوئی ایسا ہی کلمہ بولا جس میں اللہ کی طرف بات کو منسوب کیا تھا۔مولوی صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب کو اس وقت خیال نہیں آیا کہ یہ سوال و جواب آپ کے الہام کے مطابق تھا۔پھر جب آپ گورداسپور سے واپس قادیان آنے لگے تو میں نے راستہ میں موڑ پر آکر آپ سے عرض کیا کہ حضور میرا خیال ہے کہ حضور کا وہ الہام اس سوال وجواب میں پورا ہوا ہے۔حضرت صاحب بہت خوش ہوئے کہ ہاں واقعی یہی ہے آپ نے بہت ٹھیک سمجھا ہے۔مولوی صاحب نے بیان کیا کہ اس کے چند دن بعد مجھے شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب نے کہا کہ حضرت صاحب ایک اور موقعہ پر بھی ذکر فرماتے تھے کہ مولوی شیر علی نے اس الہام کی تطبیق خوب سمجھی -