سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 20
سیرت المہدی 20 حصہ اوّل منظور فرمالی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا یہ تو یونہی ایک بات تھی ورنہ وفات کے بعد متبنے کیسا۔مطلب تو یہ تھا کہ تمہاری تائی کی خوشی کے لئے حضرت نے تمہارے تایا کی جائداد مرزا سلطان احمد کے نام داخل خارج کرا دی اور اپنے نام نہیں کرائی۔کیونکہ اس وقت کے حالات کے ماتحت حضرت صاحب سمجھتے تھے کہ ویسے بھی مرز ا سلطان احمد کو آپ کی جائیداد سے نصف حصہ جانا ہے اور باقی نصف مرزا فضل احمد کو۔پس آپ نے سمجھ لیا کہ گویا آپ نے اپنی زندگی میں ہی مرزا سلطان احمد کا حصہ الگ کر دیا۔25 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب مرز افضل احمد فوت ہوا تو اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ تمہاری اولاد کے ساتھ جائیداد کا حصہ بٹانے والا ایک فضل احمد ہی تھا سو وہ بے چارہ بھی گزر گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے دادا صاحب کے دولڑ کے تھے ایک حضرت صاحب جن کا نام مرزا غلام احمد تھا اور دوسرے ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب جو حضرت صاحب سے بڑے تھے۔ہمارے دادا نے قادیان کی زمین میں دو گاؤں آباد کر کے ان کو اپنے بیٹوں کے نام موسوم کیا تھا چنانچہ ایک کا نام قادر آبا در کھا اور دوسرے کا احمد آباد۔احمد آباد بعد میں کسی طرح ہمارے خاندان کے ہاتھ سے نکل گیا اور صرف قادر آبادرہ گیا۔چنانچہ قادرآباد حضرت صاحب کی اولاد میں تقسیم ہوا اور اسی میں مرزا سلطان احمد صاحب کا حصہ آیا لیکن خدا کی قدرت اب قریباً چالیس سال کے عرصہ کے بعد احمد آباد جو ہمارے خاندان کے ہاتھ سے نکل کر غیر خاندان میں جا چکا تھا واپس ہمارے پاس آ گیا ہے اور اب وہ کلیتہ صرف ہم تین بھائیوں کے پاس ہے یعنی مرزا سلطان احمد صاحب کا اس میں حصہ نہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ قادر آباد قادیان سے مشرق کی جانب واقع ہے اور احمد آباد جانب شمال ہے۔26 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے (جو خاکسار کے حقیقی ماموں ہیں ) کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لدھیانہ میں دعویٰ مسیحیت شائع کیا تو میں ان دنوں چھوٹا بچہ تھا اور شاید تیسری جماعت میں پڑھتا تھا۔مجھے اس دعوئی سے کچھ اطلاع نہیں تھی۔ایک دن میں