سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 259 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 259

سیرت المہدی 259 حصہ اوّل محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے۔اور با ینہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ میں نے منہ سے نہیں نکالا تھا۔اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع اور خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا۔کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔۔۔حضرت صاحب کی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے جو ایک نکاح کے متعلق ہے۔حضرت صاحب کی بیوی صاحبہ مکرمہ نے بار ہا رو رو کر دعائیں کی ہیں اور بار ہا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا ہے کہ گومیری زنانہ فطرت کراہت کرتی ہے۔مگر صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں۔کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں۔ایک روز دعا مانگ رہی تھیں۔حضرت صاحب نے پوچھا۔آپ کیا مانگتی ہیں؟ آپ نے بات سنائی۔کہ یہ مانگ رہی ہوں۔حضرت صاحب نے فرمایا۔سوت کا آنا تمہیں کیونکر پسند ہے۔آپ نے فرمایا۔کچھ ہی کیوں نہ ہو۔مجھے اس کا پاس ہے کہ آپ کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں پوری ہو جائیں۔“ 290 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دینی مشاغل میں ایسی تندہی اور محویت سے مصروف رہتے تھے کہ حیرت ہوتی تھی۔اس کی ایک نہایت ادنی مثال یوں سمجھنی چاہیے کہ جیسے ایک دکاندار ہو۔جو اکیلا اپنی دکان پر کام کرتا ہو۔اور اس کا مال اس کی وسیع دکان میں مختلف جگہ پھیلا ہوا ہو۔اور ایسا اتفاق ہو کہ بہت سے گاہک جو مختلف چیزیں خریدنے کے خیال سے آئے ہوں۔اس کی دکان پر جمع ہو جائیں۔اور اپنے مطالبات پیش کریں۔ایسے وقت میں ایک ہوشیار اور سمجھدار دکاندار جس مصروفیت کے ساتھ اپنے گاہکوں کے ساتھ مشغول ہو جائیگا اور اسے کسی بات کی ہوش نہیں رہے گی۔بس یہی حال مگر ایک بڑے پیمانہ پر حضرت مسیح موعود کا نظر آتا تھا۔اور روز صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لیکر صبح تک آپ کا وقت اس محو کر دینے والی مصروفیت میں گذر جاتا تھا اور جس طرح ایک مسافر جس کے پاس وقت تھوڑا ہو اور اس نے ایک بہت بڑی مسافت طے کرنی ہو۔اپنی حرکات میں غیر معمولی سرعت سے کام لیتا ہے۔اسی طرح آپ کا حال تھا۔بسا اوقات ساری ساری رات تصنیف کے کام میں لگا دیتے تھے اور صبح کو پھر کمر کس کر ایک چوکس اور چست سپاہی کی طرح دین خدا کی خدمت میں ایستادہ -