سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 260
سیرت المہدی 260 حصہ اوّل کھڑے ہو جاتے تھے۔کئی دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ جو لوگ آپ کی مدد کیلئے آپ کے ساتھ کام کرتے تھے وہ گو باری باری آپ کے ساتھ لگتے تھے۔مگر پھر بھی وہ ایک ایک کر کے ماندہ ہو کر بیٹھتے جاتے تھے۔لیکن یہ خدا کا بندہ اپنے آقا کی خدمت میں نہ تھکتا تھا اور نہ ماندہ ہوتا تھا۔291 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اپنی کتاب سیرت مسیح موعود میں لکھتے ہیں کہ :۔میں نے دیکھا ہے کہ حضرت اقدس نازک سے نازک مضمون لکھ رہے ہیں۔یہاں تک کہ عربی زبان میں بے مثل فصیح کتابیں لکھ رہے ہیں اور پاس ہنگامہ قیامت برپا ہے۔بے تمیز بچے اور سادہ عورتیں جھگڑ رہی ہیں۔چیخ رہی ہیں۔چلا رہی ہیں، یہاں تک کہ بعض آپس میں دست وگریبان ہورہی ہیں۔اور پوری زنانہ کر تو تیں کر رہی ہیں۔مگر حضرت صاحب یوں لکھے جارہے ہیں اور کام میں یوں مستغرق ہیں کہ گویا خلوت میں بیٹھے ہیں۔یہ ساری لانظیر اور عظیم الشان عربی، اردو، فارسی کی تصانیف ایسے ہی مکانوں میں لکھی ہیں۔میں نے ایک دفعہ پوچھا۔اتنے شور میں حضور کو لکھنے میں یا سوچنے میں ذرا بھی تشویش نہیں ہوتی ؟ مسکرا کر فرمایا ” میں سنتا ہی نہیں تشویش کیا ہو“۔292 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم لکھتے ہیں کہ:۔”ایک دفعہ اتفاق ہوا کہ جن دنوں حضرت صاحب تبلیغ ( یعنی آئینہ کمالات اسلام کا عربی حصہ) لکھا کرتے تھے۔مولوی نورالدین صاحب تشریف لائے۔حضرت صاحب نے ایک بڑا دو ورقہ مضمون لکھا اور اس کی فصاحت و بلاغت خدا داد پر حضرت صاحب کو ناز تھا اور وہ فارسی ترجمہ کیلئے مجھے دینا تھا مگر یاد نہ رہا اور جیب میں رکھ لیا اور باہر سیر کو چل دیئے۔مولوی صاحب اور جماعت بھی ساتھ تھی۔واپسی پر کہ ہنوز راستہ ہی میں تھے۔مولوی صاحب کے ہاتھ میں کاغذ دیدیا کہ وہ پڑھ کر عاجز راقم کو دے دیں۔مولوی صاحب کے ہاتھ سے وہ مضمون گر گیا۔واپس ڈیرہ میں آئے اور بیٹھ گئے۔حضرت صاحب معمولاً اندر چلے گئے۔میں نے کسی سے کہا کہ آج حضرت صاحب نے مضمون نہیں بھیجا اور کاتب سر پر کھڑا ہے اور ابھی مجھے ترجمہ بھی کرنا