سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 258 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 258

سیرت المہدی 258 حصہ اوّل صاحب کے پاس جاتا تھا۔تو وہ اسے ایسا پکڑتے تھے۔کہ وہ خود بھی ڈوبنے لگتا تھا۔اس طرح مولوی صاحب نے کئی غوطے کھائے۔آخر شاید قاضی امیر حسین صاحب نے پانی میں غوطے لگا لگا کر نیچے سے اُن کو کنارے کی طرف دھکیلا۔تب وہ باہر آئے۔جب مولوی صاحب حضرت صاحب سے اس واقعہ کے بعد ملے تو آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔مولوی صاحب آپ گھڑے کے پانی سے ہی نہا لیا کریں۔ڈھاب کی طرف نہ جائیں۔پھر فرمایا کہ میں بچپن میں اتنا تیرتا تھا کہ ایک وقت میں ساری قادیان کے ارد گرد تیر جاتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ برسات کے موسم میں قادیان کے اردگرد اتنا پانی جمع ہو جاتا ہے کہ سارا گاؤں ایک جزیرہ بن جاتا ہے۔289 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ جاننے کے لئے کہ حضرت مسیح موعود کا اپنے گھر والوں کے ساتھ کیسا معاملہ تھا۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم مغفور کی تصنیف سیرت مسیح موعود کے مندرجہ ذیل فقرات ایک عمدہ ذریعہ ہیں۔مولوی صاحب موصوف فرماتے ہیں۔عرصہ قریب پندرہ برس کا گذرتا ہے۔جبکہ حضرت صاحب نے بار دیگر خدا تعالیٰ کے امر سے معاشرت کے بھاری اور نازک فرض کو اُٹھایا ہے۔اس اثنا میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ خانہ جنگی کی آگ مشتعل ہوئی ہو۔وہ ٹھنڈا دل اور بہشتی قلب قابل غور ہے۔جسے اتنی مدت میں کسی قسم کے رنج اور تشخص علیش کی آگ کی آنچ تک نہ چھوٹی ہو اس بات کو اندرون خانہ کی خدمت گار عورتیں جو عوام الناس سے ہیں۔اور فطری سادگی اور انسانی جامہ کے سوا کوئی تکلف اور تصنع زیر کی اور استنباطی قوت نہیں رکھتیں بہت عمدہ طرح محسوس کرتی ہیں۔وہ تعجب سے دیکھتی ہیں۔اور زمانہ اور گردو پیش کے عام عرف اور برتاؤ کے بالکل برخلاف دیکھ کر بڑے تعجب سے کہتی ہیں۔اور میں نے بار ہا انہیں خود حیرت سے کہتے ہوئے سُنا ہے۔که مر جا بیوی دی گل بڑی من دا اے اس بد مزاج دوست کا واقعہ سن کر آپ معاشرت نسواں کے بارے میں دیر تک گفتگو فرماتے رہے اور آخر میں فرمایا کہ میرا یہ حال ہے۔کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا اور میں