سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 257
سیرت المہدی 257 حصہ اوّل مولوی صاحب کو یہ بھی کہیں کہ آگ میں گھس جاؤ یا پانی میں کود جاؤ تو ان کو کوئی عذر نہیں ہوگا۔لیکن ہمیں بھی مولوی صاحب کے آرام کا خیال چاہیے۔ان کے گھر میں آج کل بچہ ہونے والا ہے۔اس لئے میں ان کو راولپنڈی جانے کے لئے نہیں کہہ سکتا۔مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے ہیں۔کہ مجھے یاد ہے کہ اس کے بعد حضرت مولوی صاحب حضرت صاحب کا یہ فقرہ بیان کرتے تھے۔اور اس بات پر بہت خوش ہوتے تھے۔کہ حضرت صاحب نے مجھ پر اس درجہ اعتماد ظاہر کیا ہے۔286 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے چوہدری حاکم علی صاحب نے۔ایک دفعہ حضرت صاحب بڑی مسجد میں کوئی لیکچر یا خطبہ دے رہے تھے۔کہ ایک سکھ مسجد میں گھس آیا اور سامنے کھڑا ہو کر حضرت صاحب کو اور آپ کی جماعت کو سخت گندی اور مخش گالیاں دینے لگا۔اور ایسا شروع ہوا کہ بس چپ ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔مگر حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ سنتے رہے۔اس وقت بعض طبائع میں اتنا جوش تھا کہ اگر حضرت صاحب کی اجازت ہوتی۔تو اُس کی وہیں تکا بوٹی اُڑ جاتی۔مگر آپ سے ڈر کر سب خاموش تھے۔آخر جب اس کی مخش زبانی حد کو پہنچ گئی۔تو حضرت صاحب نے فرمایا۔کہ دو آدمی اسے نرمی کے ساتھ پکڑ کر مسجد سے باہر نکال دیں مگر اسے کچھ نہ کہیں۔اگر یہ نہ جاوے تو حاکم علی سپاہی کے سپرد کر دیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ سرکار انگریزی کی طرف سے قادیان میں ایک پولیس کا سپاہی رہا کرتا ہے۔اور ان دنوں حاکم علی نامی ایک سپاہی ہوتا تھا۔287 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب فرماتے تھے۔کہ مجھے بعض اوقات غصہ کی حالت تکلف سے بنانی پڑتی ہے۔ورنہ خود طبیعت میں بہت کم غصہ پیدا ہوتا ہے۔288 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ مولوی محمد علی صاحب یہاں ڈھاب میں کنارے پر نہانے لگے۔مگر پاؤں پھسل گیا۔اور وہ گہرے پانی میں چلے گئے۔اور پھر لگے ڈوبنے کیونکہ تیرنا نہیں آتا تھا۔کئی لوگ بچانے کے لئے پانی میں کو دے مگر جب کوئی شخص مولوی