سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 256
سیرت المہدی 256 حصہ اوّل ہیں۔بلکہ محض اندازے ہیں۔جو آپ نے لگائے ہیں جیسا کہ آپ نے خود براہین احمدیہ حصہ پنجم میں بیان فرما دیا ہے۔خاکسار کی تحقیق میں آپ کی تاریخ پیدائش ۱۲۵۲ ھ کی نکلتی ہے۔واللہ اعلم۔284 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا حضرت خلیفہ ثانی نے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کا ایک رشتہ دار جو ایک بھنگی ، چرسی اور بد معاش آدمی تھا۔قادیان آیا۔اور اس کے متعلق کچھ شبہ ہوا۔کہ وہ کسی بدارادے سے یہاں آیا ہے اور اس کی رپورٹ حضرت صاحب تک بھی پہنچی۔آپ نے حضرت خلیفہ اول کو کہلا بھیجا۔کہ اسے فوراً قادیان سے رخصت کر دیں۔لیکن جب حضرت خلیفہ اول نے اسے قادیان سے چلے جانے کو کہا۔تو اس نے یہ موقع غنیمت سمجھا۔اور کہا۔اگر مجھے اتنے روپے دے دو گے تو میں چلا جاؤں گا۔حضرت خلیفہ ثانی بیان کرتے تھے کہ جتنے روپے وہ مانگتا تھا اس وقت اتنے روپے حضرت خلیفہ اول کے پاس نہ تھے اس لئے آپ کچھ کم دیتے تھے۔اسی جھگڑے میں کچھ دیر ہوگئی۔چنانچہ اس کی اطلاع پھر حضرت صاحب تک پہنچی وہ ابھی تک نہیں گیا۔اور قادیان میں ہی ہے اس پر حضرت صاحب نے خلیفہ اول کو کہلا بھیجا کہ یا تو اسے فوراً قادیان سے رخصت کر دیں یا خود بھی چلے جاویں۔حضرت مولوی صاحب تک جب یہ الفاظ پہنچے۔تو انہوں نے فوراً کسی سے قرض لے کر اُسے رخصت کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اللہ کے نبی جہاں ایک طرف محبت اور احسان اور مروت کا بے نظیر نمونہ ہوتے ہیں۔وہاں دوسری طرف خدا کی صفت استغناء کے بھی پورے مظہر ہوتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کا یہ رشتہ دار آپ کا حقیقی بھتیجا تھا۔اور اس کا نام عبدالرحمن تھا۔ایک نہایت آوارہ گرد اور بدمعاش آدمی تھا۔اور اس کے متعلق اس وقت یہ شبہ کیا گیا تھا۔کہ ایسا نہ ہو کہ یہ شخص قادیان میں کسی فتنہ عظیمہ کے پیدا کرنے کا موجب ہو جائے۔285 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ راولپنڈی سے ایک غیر احمدی آیا۔جو اچھا متمول آدمی تھا۔اور اس نے حضرت صاحب سے درخواست کی کہ میرا فلاں عزیز بیمار ہے۔حضور حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ اول ( کو اجازت دیں کہ وہ میرے ساتھ راولپنڈی تشریف لے چلیں اور اس کا علاج کریں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمیں یقین ہے کہ اگر