سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 19
سیرت المہدی اصل خط 19 لئے وں کی ایک پینا ہو گا اسے حصہ اوّل نقل محط علاوہ اسکے مجھے اپنی اولاد کے لئے یہ خیال ہے کہ ان کی شادیاں ایسی لڑکیوں سے ہوں کہ انہوں نے ال کر گزاری این ایسے لاگو ہو کر نا روی و ادای دینی علوم اور کس قدر عربی اور فار اور ان کے قدموں اور نا ہے اور اگر کار من تقسیم ہے ہو اور ایک انگریزی میں تعلیم پائی ہو اور بڑے گھروں کے انتظام کرنے کے لئے کرنے کا استلام کا ان الالوان راوی بیان کیا متلی اور دماغ رکھتی ہوں سو یہ سب باشید که داده او خور تیر رہی ہو تو ما را یار نہیں کہ علاوہ اور خوبیوںکے یہ خوبی میں ہیں۔باپ کا گمراہوں، خاندانوں من لایکی و متدی بھی ہو۔خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں پنجاب کے شریف خاندانوں میں طرف القدر قید کر کر دی یین و یا کالا یا ان لڑکیوں کی تعلیم کی طرف اس قدر توجہ کم ہے کہ وہ بیچاریاں وحشیوں کی طرح نشو و نما با چی میشه نشو و نما پاتی ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ عبارت ایک خط سے لی گئی ہے جو حضرت مسیح موعود نے ۱۸۹۹ء میں مرزا محمود بیگ صاحب پٹی کو لکھا تھا۔24 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب تمہارے تایا ( مرزا غلام قادر صاحب یعنی حضرت صاحب کے بڑے بھائی ) لا ولد فوت ہو گئے تو تمہاری تائی حضرت صاحب کے پاس روئیں اور کہا کہ اپنے بھائی کی جائیداد سلطان احمد کے نام بطور متبنے کے کرا دو وہ ویسے بھی اب تمہاری ہے اور اس طرح بھی تمہاری رہے گی۔چنانچہ حضرت صاحب نے تمہارے تایا کی تمام جائداد مرزا سلطان احمد کے نام کرادی۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ حضرت صاحب نے متنبی کی صورت کس طرح