سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 247
سیرت المہدی کا حق دار ہے۔247 حصہ اوّل 277 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر اشاعت السنۃ نے حضرت مسیح موعود کی تصنیف براہین احمدیہ پر جور یو یو لکھا تھا اس کے بعض فقرے درج ذیل کرتا ہوں۔”ہماری رائے میں یہ کتاب ( یعنی براہین احمدیہ حصہ اوّل و دوم و سوم و چهارم مصنفہ حضرت مسیح موعود ) اس زمانہ میں موجودہ حالات کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں شائع نہیں ہوئی۔اور آئندہ کی خبر نہیں۔لَعَلَّ اللهُ يُحدِثُ بَعْدَ ذَالِكَ اَمْرًا۔يَقُولُ الْعَبُدُ الفقيرُ البشيرُ وَ قَدْ صَدَقَ اللهُ قَوْلَ هَذَا الْمَوْلَوِى وَأَحْدَتْ بَعْدَ ذَالِكَ أَمْرًا عَظِيمًا إِذْ جَعَلَ مُصَنِّفَ هَذَا الكِتبِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ وَ الْمَهْدِى الْمَعْهُودَ وَ جَعَلَهُ إِمَاماً عَدْلًا الَّذِي مَلَاءَ الْأَرْضَ قِسُطًا بَعْدَ مَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَإِثْمًا وَ نَالَ الْإِيْمَانَ مِنَ القُرَيَا وَ كَسَرَ الصَّلِيْبَ وَ حَارَبَ الدَّجَّالَ فَقَتَلَهُ وَلَكِنْ يَحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَا تِيْهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ) اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم از کم کوئی ایسی کتاب بتاوے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصا فرقہ آریہ و برہم سماج سے اس زور شور سے مقابلہ پایا جا تا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کی نشاندہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی و جانی قلمی و لسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بیٹرا اُٹھا لیا ہو۔اور مخالفین اسلام و منکرین الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کے ساتھ یہ دعوی کیا ہو کہ جس کو وجود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس آکر اس کا تجربہ و مشاہدہ کرے اور اس تجربہ و مشاہدہ کا اقوام غیر کو مزہ بھی چکھا دیا ہو۔مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے ( جب ہم قطبی اور شرح ملا پڑھتے تھے ) ہمارے ہم مکتب۔اس زمانہ سے آج تک ہم میں ان میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلات برابر جاری رہی ہے۔اس لئے ہمارا یہ کہنا کہ ہم ان کے حالات و خیالات سے بہت واقف ہیں مبالغہ قرار نہ دئیے جانے کے لائق ہے۔مؤلف براہین احمدیہ نے مسلمانوں کی عزت رکھ دکھائی ہے ، اور مخالفین اسلام سے شرطیں لگالگا کر تحدی کی ہے۔اور یہ منادی اکثر روئے زمین پر کر دی ہے کہ جس شخص کو