سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 246 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 246

سیرت المہدی 246 حصہ اوّل خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیر سراج الحق صاحب نے اپنی کتاب تذکرۃ المہدی حصہ اوّل میں یہ واقعہ بیان کر کے یہ بات زائد بیان کی ہے کہ مولوی نظام الدین صاحب نے یہ بھی سنایا کہ جب میں نے مولوی محمد حسین صاحب سے یہ کہا کہ ہم تو پھر قرآن کے ساتھ ہیں تو مولوی صاحب نے سخت برہم ہو کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس کی روٹی بند کر دو۔( پیر صاحب لکھتے ہیں کہ مولوی نظام الدین صاحب کو مولوی محمد حسین کی طرف سے روٹی ملا کرتی تھی) اس پر میں نے ہاتھ باندھ کر مولوی محمد حسین سے ( ظرافت کے طور پر ) کہا کہ مولوی صاحب میں قرآن کو چھوڑ دیتا ہوں۔خدا کے واسطے میری روٹی نہ بند کرنا۔اس پر مولوی محمد حسین صاحب سخت شرمندہ ہوئے۔پیر صاحب نے لکھا ہے کہ جب مولوی نظام الدین نے عملاً اسی طرح ہاتھ باندھ کر اس مکالمہ کو حضرت صاحب کے سامنے دہرایا تو حضرت صاحب بہت ہنسے اور پھر فرمانے لگے کہ دیکھو ان مولویوں کی حالت کہاں تک گر چکی ہے نیز میاں عبداللہ صاحب سنوری بیان کرتے تھے کہ میں پہلے مولوی محمد حسین بٹالوی کا بڑا معتقد ہوتا تھا اور اس کے پاس جا کر ٹھہرا کرتا تھا پھر حضرت صاحب کی ملاقات کے بعد بھی جب کبھی مجھے حضرت صاحب مولوی محمد حسین کے پاس کوئی خط وغیرہ دے کر بھیجتے تھے تو میں اس سے اسی عقیدت کے ساتھ ملتا تھا۔لیکن جب اس نے حضرت صاحب کی مخالفت کی تو مجھے اس سے نفرت ہوگئی۔اور میں نے کبھی اس کی صورت تک دیکھنی پسند نہیں کی۔خاکسار نے میاں عبداللہ صاحب سے دریافت کیا کہ مخالفت سے پہلے مولوی محمد حسین کا حضرت صاحب کے ساتھ کیسا تعلق تھا۔آیا ایک عام برابری کا ساتعلق تھا یا وہ حضرت صاحب کے ساتھ عقیدت اور اخلاص رکھتا تھا۔میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ وہ حضرت صاحب سے عقیدت رکھتا تھا۔چنانچہ جب کبھی کوئی حضرت صاحب کا کام ہوتا تو وہ شوق اور اخلاص سے کرتا تھا اور اس کی باتوں سے پتہ لگتا تھا کہ اس کے دل میں آپ کی محبت اور ادب ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ براہین احمدیہ پر جو مولوی محمد حسین نے ریو یولکھا تھا اس سے بھی صاف پتہ چلتا ہے کہ مخالفت سے پہلے مولوی محمد حسین حضرت مسیح موعود کے ساتھ کافی عقیدت رکھتا تھا۔یہ ریویو بڑا مبسوط و مکمل ہے اور اپنے حجم کے لحاظ سے گویا ایک مستقل کتاب کہلانے