سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 248
سیرت المہدی 248 حصہ اوّل اسلام کی حقانیت میں شک ہو وہ ہمارے پاس آئے۔اے خدا! اپنے طالبوں کے رہنما! ان پر ان کی ذات سے ان کے ماں باپ سے تمام جہاں کے مشفقوں سے زیادہ رحم فرما( یعنی رحم فرمانے والے ) تو اس کتاب کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے اور اس کے برکات سے ان کو مالا مال کر دے اور کسی اپنے صالح بندے کے طفیل اس خاکسار شرمسار گنہگار کو بھی اپنے فیوض اور انعامات اور اس کتاب کی اخص برکات سے فیضیاب کر۔آمین و للارض من كاس الكرام نصیب یعنی بڑے لوگوں کے جام سے ان کی جام نوشی کے وقت زمین پر بھی کچھ شراب گر جاتا ہے۔کیونکہ وہ بوجہ کثرت شراب کے بے پرواہی سے شراب پیتے ہیں اور اس کے تھوڑے بہت گر جانے اور ضائع ہو جانے کی ان کو پروا نہیں ہوتی۔پس اے اللہ! ہم کو بھی حضرت مرزا صاحب کی جام نوشی کے وقت تیری شراب سے جو تو نے انکو دی ہے اور نہیں تو صرف اسی قدر حصہ مل جاوے جو بوقت مے نوشی زمین پر گر کر ضائع ہو جایا کرتا ہے۔خاکسار مؤلف“ دیکھو اشاعۃ السنہ جلد ۶ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے مولوی محمد حسین کے اس ریویو کا اپنے عربی اشعار مندرجہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں ذکر کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔ایا را شقی قد كنت تمدح منطقى وتثنى على بالفة وتوقر اے مجھ پر تیر چلانے والے کوئی زمانہ تھا کہ تو میرے کلام کی تعریف کرتا تھا اور محبت کے ساتھ میری ثنا کرتا تھا اور میری عزت کرتا تھا ولله درک حین قرظت مخلصًا کتابی وصرت لكل ضال مخفر اور کیا ہی اچھا تھا حال تیرا جبکہ تو نے اخلاص کے ساتھ میری کتاب کار یو یو لکھا اور تو گمراہوں کو ہدایت کی پناہ میں لانے والا تھا وانت الذي قد قال في تقريظه كمثل المولّف ليس فينا غضنفر کہ تو وہی تو ہے جس نے اپنے ریویو میں کہا تھا کہ براہین احمدیہ کے مؤلف جیسا کوئی شیر بہادر ہم میں نہیں ہے