سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 18
سیرت المہدی 18 حصہ اوّل آپ کو کچھ غنودگی ہوئی تو آپ لیٹ گئے پھر آپ کے ہونٹوں سے کچھ آواز سنی گئی جس کو ہم سمجھ نہیں سکے پھر آپ بیدار ہوئے تو فرمایا مجھے اس وقت یہ الہام ہوا ہے۔مگر خاکسار کو وہ الہام یاد نہیں رہا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ جب آپ کو الہام ہوتا تھا تو اس کے بعد آپ غنودگی سے فوراً بیدار ہو جاتے تھے اور اسے تحریر کر لیتے تھے۔اوائل میں اپنی کسی عام کتاب پر نوٹ کر لیا کرتے تھے۔پھر آپ نے ایک بڑے سائز کی کاپی بنوالی اس کے بعد ایک چھوٹی مگر نعیم نوٹ بک بنوائی تھی۔خاکسار نے پوچھا کہ اب وہ نوٹ بک کہاں ہے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا تمہارے بھائی (بھائی سے مراد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ ہیں) کے پاس ہے اور خاکسار کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب بھی بیان کرتے تھے کہ میں نے ایک دفعہ حضرت صاحب کو الہام ہوتے دیکھا تھا۔23 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر کا کام آخری زمانہ میں ٹیڑھے نب سے کیا کرتے تھے اور بغیر خطوط کا سفید کاغذ استعمال فرماتے تھے۔آپ کی عادت تھی کہ کاغذ لے کر اس کی دو جانب شکن ڈال لیتے تھے تا کہ دونوں طرف سفید حاشیہ رہے اور آپ کالی روشنائی سے بھی لکھ لیتے تھے اور بلیو، بلیک سے بھی اور مٹی کا اپلہ سا بنوا کر اپنی دوات اس میں نصب کروا لیتے تھے تا کہ گرنے کا خطرہ نہ رہے۔آپ بالعموم لکھتے ہوئے ٹہلتے بھی جاتے تھے یعنی ٹہلتے بھی جاتے تھے اور لکھتے بھی اور دوات ایک جگہ رکھ دیتے تھے جب اس کے پاس سے گزرتے نب کو تر کر لیتے۔اور لکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی تحریر کو پڑھتے بھی جاتے تھے اور آپ کی عادت تھی کہ جب آپ اپنے طور پر پڑھتے تھے تو آپ کے ہونٹوں سے گنگنانے کی آواز آتی تھی اور سنے والا الفاظ صاف نہیں سمجھ سکتا تھا۔خاکسار نے مرزا سلطان احمد صاحب کو پڑھتے سنا ہے ان کا طریق حضرت صاحب کے طریق سے بہت ملتا ہے۔آپ کی تحریر پختہ مگر شکستہ ہوتی تھی۔جس کو عادت نہ ہو وہ صاف نہیں پڑھ سکتا تھا۔لکھے ہوئے کو کاٹ کر بدل بھی دیتے تھے۔چنانچہ آپ کی تحریر میں کئی جگہ کئے ہوئے حصے نظر آتے تھے اور آپکا خط بہت باریک ہوتا تھا۔چنانچہ نمونہ درج