سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 17
سیرت المہدی 17 حصہ اوّل بیعت کی تھی۔خاکسار نے دریافت کیا کہ آپ نے کب بیعت کی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا میرے متعلق مشہور ہے کہ میں نے بیعت سے توقف کیا اور کئی سال بعد بیعت کی۔یہ غلط ہے بلکہ میں کبھی بھی آپ سے الگ نہیں ہوئی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی اور شروع سے ہی اپنے آپ کو بیعت میں سمجھا اور اپنے لئے با قاعدہ الگ بیعت کی ضرورت نہیں سمجھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابتدائی بیعت کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسیحیت اور مہدویت کا دعوی نہ تھا بلکہ عام مجددانہ طریق پر آپ بیعت لیتے تھے۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ حضرت مولوی صاحب کے علاوہ اور کس کس نے پہلے دن بیعت کی تھی؟ والدہ صاحبہ نے میاں عبداللہ صاحب سنوری اور شیخ حامد علی صاحب کا نام لیا۔21 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعوی مسیحیت شائع کرنے لگے تو اس وقت آپ قادیان میں تھے آپ نے اس کے متعلق ابتدائی رسالے یہیں لکھے پھر آپ لدھیانہ تشریف لے گئے اور وہاں سے دعوئی شائع کیا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا دعوئی شائع کرنے سے پہلے آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ میں ایسی بات کا اعلان کرنے لگا ہوں جس سے ملک میں مخالفت کا بہت شور پیدا ہوگا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا اس اعلان پر بعض ابتدائی بیعت کرنے والوں کو بھی ٹھوکر لگ گئی۔22 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں میر حامد شاہ صاحب کے مکان پر تھے اور سور ہے تھے میں نے آپ کی زبان پر ایک فقرہ جاری ہوتے سنا۔میں نے سمجھا کہ الہام ہوا ہے پھر آپ بیدار ہو گئے تو میں نے کہا کہ آپ کو یہ الہام ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں تم کو کیسے معلوم ہوا؟ میں نے کہا مجھے آواز سنائی دی تھی۔خاکسار نے دریافت کیا کہ الہام کے وقت آپ کی کیا حالت ہوتی تھی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا اور ماتھے پر پسینہ آجاتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود اپنے مکان کے چھوٹے صحن میں (یعنی جو والدہ صاحبہ کا موجودہ صحن ہے ) ایک لکڑی کے تخت پر تشریف رکھتے تھے غالبا صبح یا شام کا وقت تھا