سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 229
سیرت المہدی 229 حصہ اوّل دیتا کیونکہ خدا ایسے طریق کو نا پسند کرتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے نسب میں بعض معیوب باتیں سمجھی جاتی تھیں۔واللہ اعلم جن کو وکیل اپنے سوال سے ظاہر کرنا چاہتا تھا مگر حضرت صاحب نے روک دیا۔دراصل حضرت صاحب اپنے ہاتھ سے کسی دشمن کی بھی ذلت نہیں چاہتے تھے ، ہاں جب خدا کی طرف سے کسی کی ذلت کا سامان پیدا ہوتا تھا تو وہ ایک نشان الہی ہوتا تھا جسے آپ ظاہر فرماتے تھے۔249 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب مولوی محمد حسین بٹالوی قتل کے مقدمہ میں حضرت صاحب کے خلاف پیش ہوا تو اس نے کمرے میں آکر دیکھا کہ حضرت صاحب ڈگلس کے پاس عزت کے ساتھ کرسی پر تشریف رکھتے ہیں اس پر حسد نے اسے بیقرار کر دیا۔چنانچہ اس نے بھی حاکم سے کرسی مانگی اور چونکہ وہ کھڑا تھا اور اس کے اور حاکم کے درمیان پنکھا تھا جس کی وجہ سے وہ حاکم کے چہرہ کو دیکھ نہ سکتا تھا۔اس لئے اس نے پنکھے کے نیچے سے جھک کر حاکم کو خطاب کیا۔مگر ڈگلس نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی ایسی فہرست نہیں ہے جس میں تمہارا نام کرسی نشینوں میں درج ہو۔اس پر اس نے پھر اصرار کے ساتھ کہا تو حاکم نے ناراض ہو کر کہا کہ بک بک مت کر پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہو جا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی بعض تحریروں میں ”سیدھا کھڑا ہو جا“ کے الفاظ آتے تھے اور ہم نہ سمجھتے تھے کہ اس سے کیا مراد ہے مگر اب پتہ لگا کہ مولوی محمد حسین چونکہ جھک کر پنکھے کے نیچے سے کلام کر رہا تھا اس لئے اسے سیدھا ہونے کیلئے کہا گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت مولوی محمد حسین کے دل وسینہ میں کیا کیا نہ چھریاں چل گئی ہونگی۔ایک طرف اُسے اپنا یہ قول یاد آتا ہوگا کہ میں نے ہی اسے ( یعنی حضرت صاحب کو ) اُٹھایا ہے اور اب میں ہی اسے گراؤنگا۔اور دوسری طرف حضرت صاحب کا وہ الہام اس کی آنکھوں کے سامنے ہوگا کہ ” إِنِّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اهَانَتَكَ، یعنی جو تیری ذلت چاہتا ہے میں خودا سے ذلیل کرونگا۔اللہ اکبر -